انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 183

انوار العلوم جلد 9 ۱۸۳ منهاج الطالبين ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِيْنٍ - ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظماً فَكَسَوْنَا الْعِظْمَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبْرَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ - اے انسان کو خدا نے سب سے اعلیٰ مخلوق بنا دیا اور سب خلق اس کے ماتحت آگئی۔ اب اس اصل کو سمجھ لینے کے بعد انسانی اخلاق پر غور کرو۔ سب اخلاق کا باعث یہی سیدھے سادھے خواص جو مادے میں پائے جا میں پائے جاتے ہیں نظر آتے ہیں جو مختلف مدارج ارتقاء کے بعد ا بعد اس حالت کو پہنچ گئے ہیں اور اس وجہ سے ان کو اپنی ذات میں ہم ہر گز بڑا نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ طبعی تقاضے ہیں۔ ہم انہیں تبھی بڑا کہہ سکتے ہیں جب وہ بے محل استعمال ہوں۔ مثلاً بزدلی ہے، سب لوگ اسے بڑا کہتے ہیں۔ لیکن کیا اس کا یہی مطلب نہیں ہے کہ ایک بات سے انسان پیچھے ہٹتا ہے اور خالی پیچھے ہٹنا بڑا نہیں کہلا سکتا وہ اعراض کے قدرتی جذبہ کا اظہار ہے۔ ہم اسے تبھی بڑا کہیں گے جب کہ وہ فعل عقل اور مقتضائے وقت کے خلاف کیا گیا ہو۔ چنانچہ ہم زہر کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی پیچھے ہٹنے کا ہی فعل ہے لیکن سب لوگ اسے اچھا کہتے ہیں حالانکہ دونوں فعلوں کی شکل ایک ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ یہ فعل بھی اپنی ذات میں نہ اچھا ہے نہ بڑا۔ بلکہ جب عقل اور مقتضائے وقت کے مطابق یہ فعل ہو تو اچھا ہے ورنہ بڑا خواہ اس کا نام زہد رکھویا کچھ اور۔ اسی طرح صبر ہے، اس میں بھی خاصیت اعراض کا ہی ظہور ہے۔ اور ہم اسے اچھا تبھی کہیں گے جب یہ عقل و مقتضائے وقت کے مطابق ہو ورنہ نہیں۔ اب میں ایک مثال خاصیت میل کی بیان کرتا ہوں اور وہ عاشقانہ محبت کی یعنی اُس محبت کی جو محبت اپنے محبوب سے کرتا ہے مثال ہے۔ ایک مرید اپنے پیر سے یا شاگرد اپنے اُستاد سے اس قسم کی محبت کرتا ہے۔ وہ اس کے حسن کو دیکھ کر جو اپنے اندر جذب رکھتا ہے اس کی طرف جھک جاتا ہے۔ جب یہ محبت عقل و مقتضائے وقت کے ماتحت ہوتی ہے مخلق حسن کہلاتی ہے۔ اور جب ایسی نہ ہو تو آوارگی اور کمینگی۔ لیکن دونوں حالتوں کے اندر حقیقت ایک ہی پوشیدہ ہے اور وہی خاصیت دوسرے کی کشش کو قبول کر لینے کی جو مادہ میں بھی موجود تھی ایک دوسری شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔ قوت دفع سے پیدا ہونے والے اخلاق کی مثال میں بہادری کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ بہادری کیا ہے۔ وہی خاصیت دفع کی جو مادہ میں موجود تھی اس شکل میں ظاہر ہوتی ہے اور جب موقع مناسب پر استعمال کی جائے تو مخلق حسن کہلاتی ہے وار نہ بد خلقی۔ گالیاں دینے کی عادت بھی اسی خاصیت کی