انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 180

انوار العلوم جلد 8 ۱۸۰ منهاج الطالبين کو ہاتھ لگایا جائے تو اپنے اندر کا بیج باہر پھینک کر سکڑ جاتا ہے۔ امریکہ میں ایک درخت ہے اگر گوشت والی چیز اس کے قریب جائے تو خوش ہو کر پھیل جاتا ہے اور اگر وہ چیز اس کے ساتھ لگ جائے تو سکڑ جاتا ہے اور اس کا خون چوس کر اُسے پھینک دیتا ہے۔ اس قسم کی مثالوں سے ثابت ہے کہ نباتات میں بھی یہ احساس پائے جاتے ہیں۔ اب ہم اور نیچے چلتے ہیں اور جمادات کو لیتے ہیں۔ کہتے ہیں انسان میں محبت ایک بہت اعلیٰ خلق ہے۔ مگر محبت کیا ہے۔ محبت اپنی طرف کھینچنے کو کہتے ہیں۔ پھر کیا مقناطیس لوہے کو اپنی طرف نہیں کھینچتا۔ اس میں بھی یہ جذبہ ہے مگر بہت سادہ جذبہ ہے۔ اس کے مقابلہ میں بجلی کی ایک ہی قسم کی طاقت اگر دو چیزوں میں پیدا کر دی جائے تو وہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے پیچھے ہٹتی ہیں۔ گویا ایک دوسرے سے نفرت کا اظہار کرتی ہیں۔ پس ثابت ہو گیا کہ محبت اور کشش نفرت اور غصہ کا مادہ جمادات میں بھی پایا جاتا ہے۔ پھر میں نے بتایا ہے کہ یہ طاقتیں باریک ذرات میں بھی موجود ہیں۔ اگر ان با میں بھی موجود ہیں۔ اگر ان میں یہ طاقتیں نہ ہوتیں تو پھر دُنیا بن ہی نہ سکتی تھی۔ اگر ذرات ایک دوسرے کو کھینچ کر آپس میں اکٹھے نہ ہوں تو کسی چیز کا دنیا میں قائم ہونا نا ممکن ہو جائے۔ یہ جذب کرنے کی طاقت ہی ہے جس نے ذرات کو آپس میں ملایا ہوا ہے۔ پس ثابت ہو گیا کہ اخلاق کا مادہ بہت گہرا ہے۔ گو یہ درست ہے کہ جتنے جتنے ہم نیچے جائیں بعض اخلاق کا ہی پتہ لگتا ہے اور بعض کا نہیں لگتا۔ مگر اس میں بھی شک نہیں کہ جڑ ہر جگہ موجود ہے۔ اس امر کو مثالوں سے ثابت کر دینے کے بعد کہ اخلاق کا ظہور جن خاصیتوں سے ہوتا ہے وہ ذرات عالم میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ وہ کونسی خاصیتیں ہیں جو اخلاق کا مادہ ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ مادہ کی ابتدائی حالت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح مادہ میں شش جہات ہیں یعنی اُوپر نیچے، دائیں بائیں، آگے پیچھے۔ اسی طرح چھ باطنی جہات بھی ہیں اور وہ بھی اپنی نسبت کے لحاظ سے اسی طرح جوڑا جوڑا ہیں جس طرح ظاہری جہات جوڑا جوڑا ہیں۔ یعنی جس طرح ظاہری جہات ایک نسبت کے لحاظ سے مثلاً دائیں ہوتی ہیں تو دوسری نسبت سے بائیں، ایک نسبت سے آگے ہوتی ہیں اور ایک نسبت سے پیچھے ، ایک نسبت سے اوپر ہوتی ہیں تو دوسری نسبت سے نیچے۔ اسی طرح باطنی چھ جہات بھی نسبتوں کے لحاظ سے دو دو قسم ہوتی ہیں یعنی ذکوری و انائی، دوسروں پر اپنی تاثیر ڈالنے والی اور دوسروں سے اثر قبول کرنے والی۔ یہ ظاہر بات ہے کہ اس چیز پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا جو اثر نہ قبول کر سکے ۔ مثلاً آٹا نرم ہوتا ہے، اس میں مٹھی گھس جاتی