انوارالعلوم (جلد 9) — Page 164
انوار العلوم جلد 8 منهاج الطالبين علیہ السلام بیان فرمایا کرتے تھے کہ کچھ بنے بیٹھے یہ کہہ رہے تھے کہ اگر کوئی ایک پاؤ تیل کھائے تو اُسے پانچ روپے انعام دیا جائے گا۔ پاس سے ایک زمیندار گزرا اُس نے یہ سن کر پنجابی میں کہا سلیاں سمیت کہ اینویں۔ یعنی ان شاخوں سمیت تیل کھانے ہیں جن میں وہ پیدا ہوتے ہیں یا ان کے بغیر کیونکہ اس نے سمجھا ایک پاؤ تیل کھانا کونسی بڑی بات ہے جس پر انعام مل سکتا ہے۔ بنیے کہنے لگے تم جاؤ ہم تمہاری بات نہیں کرتے۔ تو طبائع میں اختلاف ہوتا ہے ایک شخص کے نزدیک جو بات بڑی ہوتی ہے دوسرا اُسے معمولی سمجھتا ہے۔ اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ حقہ پینے والے کو خدائی الہام ہوتے ہیں تو کہنا پڑے گا کہ وہ الہام اعلیٰ درجہ کے نہ ہوں گے کیونکہ رسول کریم تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ لہسن کھا کر مسجد میں نہ آؤ اس کی بدبو کی وجہ سے فرشتے نہیں آتے۔ پھر رسول کریم کے سامنے کچا لہسن رکھا گیا تو آپ نے : آپ نے نہ کھایا۔ صحابہ رضی اللہ عظم نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم بھی نہ کھائیں۔ فرمایا۔ تم سے خدا کلام نہیں کرتا تم کھا سکتے ہو۔ کے ان حدیثوں کے ہوتے ہوئے کس طرح مان لیں کہ حقہ پینے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں جبکہ حقہ کی بد بو لہسن سے بھی زیادہ خراب ہوتی ہے اور رسول کریم ال حقہ سے کم بد بو والی چیز کے متعلق فرماتے ہیں کہ میں اسے استعمال نہیں کرتا کیونکہ میرے پاس فرشتے آتے ہیں۔ پس جب رسول کریم ال اس قدر احتیاط کرتے تھے تو جو شخص الہام کا مدعی ہے یا جسے خواہش ہے کہ اُسے الہام ہو اُسے بھی حقہ سے بچنا چاہئے۔ اور میں اس کی شکل دیکھنا چاہتا ہوں جو یہ کہے کہ مجھے الہام کی خواہش نہیں۔ اگر کوئی ایسا شخص نہیں تو پھر کسی کو حقہ بھی نہیں پینا چاہئے۔ پھر میں کہتا ہوں ممکن ہے ایسے شخص کو الہام ہو بھی جائے۔ مگر اعلیٰ درجہ کے الہام نہیں ہوں گے اور ہم کہیں گے اگر وہ حقہ نہ پیتا تو اس سے اعلیٰ الہام اسے ہو تا جیسا کہ حقہ پینے کی عادت رکھتے ہوئے اُسے ہوا۔ اس کے پاس اونی فرشتے آجاتے ہوں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے بعض اوقات کنچنی کو بھی الہام ہو جاتا ہے۔ کے وہاں فرشتے جاتے ہیں یا نہیں؟ اسی قسم کے فرشتے حقہ پینے والے کے پاس آجاتے ہونگے۔ پس اگر کسی حقہ پینے والے کو الہام ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں یہ اس کے لئے خوشی کی بات نہیں لیکن اگر وہ حقہ پینا چھوڑ دیتا تو اس کے پاس اعلیٰ درجہ کے فرشتے آتے۔ اس کے بعد میں ایک دوست کی عزت اور احترام کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ مجلس مشاورت میں ایک سوال اُٹھایا گیا تھا جو ایڈیٹر صاحب "نور" کے متعلق تھا۔ خیال کیا گیا تھا کہ ان