انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 163

۱۶۳ ہوتا ہے۔ا سکی رائے کا دینی مسائل میں احترام ضروری ہے۔اور اس کی رائے سے اختلاف اُسی وقت جائز ہو سکتا ہے جب اختلاف کرنے والے کو ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہو جائے کہ جو بات وہ کہتا ہے وہی درست ہے۔پھر یہ بھی شرط ہے کہ پہلے وہ اس اختلاف کو خلیفہ کے سامنے پیش کرے اور بتائے کہ فلاں بات کے متعلق مجھے یہ شُبہ ہے۔اور خلیفہ سے وہ شبہ دور کرائے۔جس طرح ڈاکٹر کو بھی مریض کہہ دیا کرتا ہے کہ مجھے یہ تکلیف ہے آپ بیماری کے متعلق مزید غور کریں۔پس اختلاف کرنے والے کا فرض ہے کہ جس بات میں اُسے اختلاف ہو اُسے خلیفہ کے سامنے پیش کرے نہ کہ خود ہی اس کی اشاعت شروع کر دے۔ورنہ اگر یہ بات جائز قرار دی جائے کہ جو بات کسی کے دل میں آئے وہی بیان کرنی شروع کر دے تو پھر اسلام کا کچھ بھی باقی نہ رہے۔کیونکہ ہر شخص میں صحیح فیصلہ کی طاقت نہیںہوتی۔ورنہ قرآن شریف میں یہ نہ آتا کہ جب امن یا خوف کی کوئی بات سنو تو اولیٰ الامر کے پاس لے جائو۔کیا اولی الامر غلطی نہیں کرتے؟ کرتے ہیں۔مگر ان کی رائے کو احترام بخشا گیا ہے۔اور جب انکی رائے کا احترام کیا گیا ہے تو خلفاء کی رائے کا احترام کیوں نہ ہو۔ہر شخص اس قابل نہیںہوتا کہ ہر بات کے متعلق صحیح نتیجہ پر پہنچ سکے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔اگر کوئی شخص تقویٰ کے لئے سو بیویاں بھی کرے تو اس کے لئے جائز ہیں۔ایک شخص نے یہ بات سُن کر دوسرے لوگوں میں آکر بیان کیا کہ اب چار بیویاں کرنے کی حد نہ رہی سو تک انسان کر سکتا ہے اور یہ بات حضرت مسیح موعودؑ نے فرما دی ہے۔آپ سے جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا۔میری تو اِس سے یہ مراد تھی کہ اگر کسی کی بیویاں مرتی جائیں تو خواہ اس کی عمرکوئی ہو تقویٰ کے لئے شادیاں کر سکتا ہے۔پس ہر شخص ہر بات کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتا۔اور جماعت کے اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ اگر کسی کو کسی بات میں اختلاف ہو تو اُسے خلیفہ کے سامنے پیش کرے۔اگر کوئی شخص اس طرح نہیں کرتا اور اختلاف کو اپنے دل میں جگہ دیکر عام لوگوں میں پھیلاتا ہے تو وہ بغاوت کرتا ہے۔اسے اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔اس کے بعد مَیں ایک اور نصیحت کرتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ حقہ بہت بری چیز ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو یہ چھوڑ دینا چاہئے۔بعض لوگوں نے مجھے کہا ہے ہم نے ایسے ملہم دیکھے ہیں۔جو حقہ پیتے تھے اور اُن کو الہام ہوتا تھا۔اس کے متعلق مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا۔جو حضرت مسیح موعود