انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 162

انوار العلوم جلد 9 ۱۶۲ منهاج المطالبين قسم کی روکوں کو دور کر کے ان تمام اقسام میں ترقی کے سامان پیدا کرے۔ پھر سلسلہ کے جو اہم کام ہوتے ہیں ان کے لئے دُعا کرتا ہوں۔ پھر یہ دُعا کرتا ہوں کہ جنہوں نے مجھے دُعا کے لئے لکھا ہے اللہ تعالیٰ ان کے دکھ اور تکالیف دور کر کے اُن کے لئے راحت کے راستے کھول دے۔ اس وقت وہ لوگ جن کی مشکلات کا میرے دل پر خاص اثر ہوتا ہے ان کے نام لے کر ان کے لئے دُعا کرتا ہوں۔ پھر یہ دعا کرتا ہوں کہ الہی ! ہماری موجودہ جماعت پر ہی فضل نہ فرما بلکہ اس کی اولاد پر بھی فضل فرما۔ پھر سلسلہ کے کارکنوں کے لئے دُعا کرتا ہوں کہ اُنہیں اپنے فرائض کی ادائیگی کی سمجھ عطا فرما، اپنے فضلوں کا وارث بنا، لوگوں سے ہمدردی اور تعاون کا طریق سکھا، جماعت کا ان کے ساتھ تعاون اور ہمدردی ہو۔ پھر وہ دوست جو تبلیغ کے لئے گئے ہوئے ہیں اُن کے لئے اور اُنکے گھر والوں کے لئے دُعا کرتا ہوں۔ پھر جو مصائب میں مبتلا ہیں اُن کے لئے دُعا کرتا ہوں۔ یہ دعائیں پانچوں وقت بلاناغہ علاوہ نوافل کے فرض نمازوں میں کرتا ہوں۔ اب بھی اگر کوئی کہے کہ میں جماعت کے لئے دعائیں نہیں کرتا تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی دن کے وقت کے سورج نہیں نکلا ہوا ۔ میں جس طرح دعا کرتا ہوں ۹۰ فیصدی ایسے لوگ ہوں گے جو خود بھی اپنے لئے اس طرح دُعا نہیں کرتے ہوں گے۔ ایک اور خیال مجھے بتایا گیا ہے اور یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلیفہ سے چونکہ اختلاف جائز ہے اس لئے ہمیں ان سے فلاں فلاں بات میں اختلاف ہے۔ میں نے ہی پہلے اس بات کو پیش کیا تھا اور میں اب بھی پیش کرتا ہوں کہ خلیفہ سے اختلاف جائز ہے۔ مگر ہر بات کا ایک مفہوم ہوتا ہے۔ اس سے بڑھتا دانائی اور عقلمندی کی علامت نہیں ہے۔ دیکھو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ڈاکٹر کی ہر رائے درست ہوتی ہے ہرگز نہیں۔ ڈاکٹر بیسیوں دفعہ غلطی کرتے ہیں مگر باوجود اس کے کوئی یہ نہیں کہتا کہ چونکہ ڈاکٹر کی رائے بھی غلط ہوتی ہے اس لئے ہم اپنا نسخہ آپ تجویز کریں گے، کیوں؟ اس لئے کہ ڈاکٹر نے ڈاکٹری کا کام باقاعدہ طور پر سیکھا ہے اور اس کی رائے ہم سے اعلیٰ ہے۔ اس طرح وکیل بیسیوں دفعہ غلطی کر جاتے ہیں مگر مقدمات میں انہی کی رائے کو وقعت دی جاتی ہے۔ اور جو شخص کوئی کام زیادہ جانتا ہے اس میں اس کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔ پس اختلاف کی بھی کوئی حد بندی ہونی چاہئے۔ ایک شخص جو خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اُسے سمجھنا چاہئے کہ خلفاء خدا مقرر کرتا ہے اور خلیفہ کا کام دن رات لوگوں کی راہنمائی اور دینی مسائل میں غور و فکر