انوارالعلوم (جلد 9) — Page 121
انوار العلوم جلد 9 ۱۲۱ آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر مسلمان بادشاہوں کی خوبیاں ہمیں مسلمان بادشاہوں کی وہ خوبیاں جو چھپائی جاتی ہیں ظاہر کرنی چاہئیں۔ اور ان کی وہ غلطیاں جو ان کے زمانہ کے تمدن کا نتیجہ تھیں ان کے متعلق ثابت کرنا چاہئے کہ وہ طبعی غلطیاں تھیں اخلاقی نہ تھیں۔ ہاں جو فی الواقع بڑے آدمی ہوں ان کی برائی کا بھی اقرار کیا جائے۔ اور کونسی قوم ہے جس میں اچھے اور برے لوگ نہ پائے جاتے ہوں۔ اسلام کے دشمنوں نے باقاعدہ اشاعت کا کام اسلامی بادشاہوں کے خلاف شروع کیا ہوا ہے اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اگر یہ واقعہ نہیں ہے تو کیا وجہ ہے کہ جس قدر مسلمانوں کو دیندار کہا جاتا ہے ان کو ظالم بتایا جاتا ہے۔ اور جسقدر بادشاہوں یا دوسرے بڑے لوگوں کو عادل یا عاقل ثابت کیا جاتا ہے ساتھ ہی ان کی اسلام سے بیزاری بھی ثابت کی جاتی ہے۔ کیا اس امر کو دیکھتے ہوئے بھی کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ واقعات سے بحث کیا جاتی ہے نئے خیالات پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ دینی تعلیم کی ضرورت اسی طرح یہ ضروری ہے کہ دینی تعلیم کی طرف خاص طور پر توجہ کی جائے بغیر دینی تعلیم کے مسلمان مسلمان نہیں بن سکتے۔ اور جس کو اسلام سے محبت ہے وہ اس اعلیٰ سے اعلیٰ دنیوی تعلیم کو دیکھ کر بھی خوش نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے ساتھ دینی تعلیم نہیں۔ اسلامی تمدن پر تاریخی کتب تعلیمی پہلو کو مکمل کرنے کے لئے اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ایسی تاریخی کتب لکھی جاویں اور طالب علموں کو پڑھائی جاویں جو اسلامی تمدن پر روشنی ڈالتی ہوں۔ اس وقت تک جو کتب لکھی جاتی ہیں وہ علاوہ ناقص ہونے کے چند آدمیوں کے حالات پر مشتمل ہوتی ہیں ان سے مسلمانوں کے تمدن کا بہ حیثیت قوم کچھ پتہ نہیں لگتا اور کسی ایک یا چند آدمیوں کے اچھے یا بڑے یا عالم یا جاہل ہونے سے اس قوم کی حالت کا صحیح اندازہ کامل تو الگ رہا نا قص طور پر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیم نسواں تعلیم کی تکمیل کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ عورتوں کی تعلیم کی طرف خاص طور پر زور دیا جائے عورتوں کی اعلیٰ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی مگر چونکہ عورتوں کے بیشتر حصہ نے ملازمتیں نہیں کرنی ان کی تعلیم میں زیادہ زور دینی تعلیم پر ہونا چاہئے تا وہ اپنے بچوں کو پکے مسلمان بنا کر اپنی قوم کے سامنے پیش کریں۔ اور امور خانہ داری کی تعلیم ہونی چاہئے تا وہ اچھی ساتھی بن سکیں اور صنعت و حرفت کی تعلیم ہونی چاہئے تا وہ