انوارالعلوم (جلد 9) — Page 120
انوار العلوم جلد 9 ۱۲۰ آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر وعدے کی وجہ سے وہ جدا گانہ حق نیابتی کو اُڑا نہیں سکتے مگر دل میں سب سمجھتے ہیں کہ یہ ناجائز ہے اور اب جو ملازمتوں کا۔ کا سوال اٹھا ہے اس کے بارہ میں تو وہ ب تو وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کا ظلم اور دیوانگی ہے۔ پس ضروری ہے کہ مسلمانوں کے مطالبات کو ایسی زبان میں اور واقعات کی روشنی میں گورنمنٹ اور اہل انگلستان کے سامنے رکھا جائے کہ وہ سمجھ سکیں کہ ہمارے مطالبات کو اصولاً درست نہ ہوں نہ ہوں مگر وقتی ضروریات کو مد نظر رکھتے : ھتے ہوئے اللہ ضروری ہیں اور ان کو اس وقت تک نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ حالات تبدیل نہ ہو جاویں۔ غرض چونکہ انڈین گورنمنٹ ہمارے سامنے جوابدہ نہیں مگر انگلستان میں جوابدہ ہے اس لئے گورنمنٹ کے سامنے اپنی ضروریات کو مدلل پیش کرنے کے علاوہ ہمارا فرض ہے کہ ہم انگلستان کی عام رائے میں بھی تبدیلی پیدا کریں۔ غیر تو غیر میں نے دیکھا ہے انگلستان میں جو مسلمان طلباء پڑھتے ہیں وہ بھی اپنے ملک سے دور ہونے کے سبب سے اور ہندوستان کے واقعات سے ناواقفیت کے سبب سے جدا گانہ نیابت اور حقوق ملازمت کے مطالبات کو لغو اور ملک کے حق میں مضر خیال کرتے ہیں۔ جب ہمارے اپنے بچوں کا یہ حال ہے تو ہم دوسروں سے کیا امید رکھ سکتے ہیں۔ و صنعت و حرفت و تجارت آخری مسئله تعلیم و تجارت و مل تعلیم و انا حرفت کی ترقی کا مسئلہ ہے ، اسقدر کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں تعلیم میں اس امر کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ بچوں میں قومی روح پھون پھونکی جائے۔ موجودہ حالت یہ ہے کہ مسلمان نوجوانوں کے سامنے کوئی خوش کن ماضی نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے شاندار مستقبل کی امید ان کے دلوں میں پیدا ہو سکے ہمارے سب بادشاہوں، سب بزرگوں کی ایسی بھیانک شکل ہمارے سامنے پیش کی گئی ہے کہ تعصباً اگر ہم ان کو اچھا کہیں تو اور بات ہے ورنہ دل ان کے اندر کوئی خوبی نہیں دیکھتے۔ مجھے تعجب آتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ ادبی رسالوں میں خود مسلمان مصنف مسلمان بادشاہوں کی نیتوں پر حملہ کرتے ہیں۔ حالانکہ نیت سے کون واقف ہو سکتا ہے نیت پر حملہ ہمیشہ دشمن کرتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک ظاہری جائز بات کو بڑی کر کے دکھا نہیں سکتا جب تک نیت پر حملہ نہ کرے اور جب ایک تعلیم یافتہ مسلمان یہی فعل کرتا ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی قومی حسن مرگئی ہے اور وہ اچھے اور برے اخلاق میں تمیز نہیں کر سکتا اور یہ نتیجہ اس غلط تعلیم کا ہے جو اس کو دی گئی ہے۔ پس تعلیم کا یہ پہلو خاص توجہ کا مستحق ہے۔