انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 65

انوار العلوم جلد 9 ۶۵ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز ( تحریر فرموده جون ۱۹۲۵ء) (۲) حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز میں نے پچھلے مضمون میں حج بیت اللہ کے متعلق اپنی رائے لکھی تھی کہ موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سال حج کے لئے جانا شریعت کے احکام کے خلاف ہے ۔ گو خطرات اس قسم کے نہیں ہیں کہ کہا جا سکے کہ ضرور ہی ہر شخص تکلیف اٹھائے گا مگر ایسے ضرور ہیں کہ غالب گمان یہ ہے کہ لوگوں کو تکلیف ہوگی اور ممکن ہے کہ وہ تکلیف سینکڑوں کے لئے ہلاکت کا موجب ہو یا ان کی صحت اور دماغ پر ناقابل تلافی اثر ڈالے اور ایسے حالات میں حج فرض نہیں رہنا بلکہ پسندیدہ بھی نہیں ہوتا۔ اور اس کی تحریک کرنے والے شریعت کی روح کو اور اس کے مغز کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مجھے خصوصیت سے اس امر پر تعجب آتا ہے کہ آج سے کچھ سال پہلے یہی لوگ جو آج حج کے فرض ہونے پر زور دے رہے ہیں ، لوگوں کو روک رہے تھے کہ مکہ کی حالت مخدوش ہے لوگوں کو حج کے لئے نہیں جانا چاہیے۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت مکہ پر شریف علی کا قبضہ تھا۔ اور یہ لوگ چاہتے تھے کہ ان کو کسی طرح نقصان پہنچے۔ پس اس وقت کا طریق عمل موجودہ طریق عمل سے مل کر بتا رہا ہے کہ حج کی تحریک حج کی خاطر سے نہیں ہے بلکہ محض سیاسی وجوہ سے ہے ۔ اور یہ بات نہایت قابل افسوس ہے اور دین کو بازیچہ اطفال بنانے کے مترادف اس سال حج کو جانے کے متعلق جو میری رائے ہے اس کو بیان کرنے کے بعد میں چاہتا ہوں که فتنہ حجاز کے متعلق بھی کچھ بیان کروں۔ کیونکہ حجاز کی حکومت کا سوال سب مسلمان کہلانے