انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 66

۶۶ والے فرقوں سے تعلق رکھتا ہے خواہ احمدی ہوں خواہ غیراحمدی۔جس وقت ترک جنگ عظیم میں شامل ہوئے ہیں اس وقت دول متحدہیعنی برطانیہ، فرانس اور اٹلی نے کوشش شروع کی کہ عرب لوگ ان کے ساتھ مل جاویں اور ترکوں کا ساتھ چھوڑ دیں۔اس سے ان کی تین غرضیں تھیں۔ایک تو یہ کہ ترکوں کی طاقت کمزور ہو جائے گی۔اور ان کو کچھ حصہ فوج کا عربوں کے مقابلہ کے لئے رکھنا پڑے گا۔خصوصاً یہ خیال تھا کہ مصر محفوظ ہو جائے گا۔کیونکہ مصر کی طرف راستہ عرب علاقہ میں سے گزر کر جاتا ہے۔دوسری یہ کہ ترکوں کو غلہ مہیا کرنے والے حصے زیادہ تر عرب علاتے ہیں۔یعنی عراق اور شام۔پس عربوں کو ساتھ ملانے سے اتحادیوں کو امید تھی کہ ترکوں کوغلہ و غیره مہیا کرنے میں دقّت ہو گی۔تیسری وجہ یہ تھی کہ اتّحادی خیال کرتے تھے کہ اگر عرب لوگ ساتھ مل گئے تو عالم اسلامی کو جو ہمدردی ترکوں سے ہے وہ نہ رہے گی۔کیونکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ساکنین ہمارے ساتھ مل جاویں گے۔چونکہ ترکی حکومت کے دور جدید میں عربوں پر ظلم کئے جاتے تھے ان کو اچھے عہدے نہیں دیئے جاتے تھے عربی زبان کو مٹایا جاتا تھا اور عرب قبائل کو جو مد د سلطان عبد الحمید خان کی طرف سے ملتی تھی وہ بند کردی گئی تھی۔اس لئے عرب بددل تو پہلے ہی سے ہو رہے تھے بعض شامی امرء اور شریف مکہ کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیالات کے بعد عرب لوگ اس شرط پر اتحادیوں کے ساتھ ملنے کے لئے تیار ہو گئے کہ کل عرب کی ایک حکومت بنا کر عربوں کو پھر متحد کر دیا جائے گا۔چونکہ شریف مکہ ہی اس وقت کھلے طور پر لڑ سکتے تھے اس لئے انہی کو امید دلائی گئی او رانہی کو امید پیدا بھی ہوئی کہ وہ سب عرب کے بادشاہ مقرر کر دیئے جائیں گے۔اس معاہدہ کے بعد شریف حسن شریف مکہ نے اپنے آپ کو اتحادیوں سے ملا دیا۔اور ترکوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔یہ جون ۱۹۱۶ء میں ہوا۔جبکہ قطر پر مشہور انگریزی جنرل ٹاون شنڈ کو سب فوج سمیت ترکوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے تھے۔اور جبکہ ترکی فوجیں غلبہ حاصل کر رہی تھیں۔پسی عربوں کا اس وقت اتحادیوں کی مدد کے لئے کھڑا ہونا بتاتا ہے کہ وہ نہایت سنجیدگی سے اپنی آزادی حاصل کرنے کے درپے تھے۔اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اتحادیوں کو ان کا مد دد ینا انتہائی درجہ کی قربانی پر مشتمل تھا اور ان کا شکریہ اتحادیوں پر لازم – اس بغاوت کا نتیجہ یہ ہوا کہ گو اتحادیوں کو کچھ تو فائدہ پہنچ گیامگر جو فوائد ان کو مد نظر تھے وہ نہ پہنچے۔مسلمانوں کی عام ہمدردی ان کو حاصل نہ ہوئی بلکہ مسلمانوں کے دل اتحادیوں کے بغض