انوارالعلوم (جلد 9) — Page 642
۶۴۲ جانا چاہئے کہ کسی ریاست میں وہاں کی حکمران قوم کو قطع نظر اس کی تعداد کے بعض خاص حقوق دیئے جائیں اور اس کی فوقیت ہونی چاہئے۔بنا بریں حیدر آباد ہمیشہ ایک مسلم ریاست رہے۔اب میں مسلمانوں کو فوقیت ہو اور یہ ایک ہندو ریاست ہے جہاں کہ ہندوؤں کو فوقیت حاصل ہو۔میرے خیال میں حکمران قوم کو قطع نظر اس کی تعداد کے ۶۰ فیصدی حقوق ملنا چاہئے۔۱۴۔خان صوبہ جات کے اختیار خود انتظامی کے اصول کو اس شرط پر تسلیم کر نا چاہتے کہ ایسے صوبہ جات ہمیشہ مرکزی حکومت کے قوانید و آئین کے اندر رہیں گے۔۱۔مخلوط انتخاب کا طریقہ اصولاً صحیح ہے مگر ہندوستان کی موجود ہ حالت کے مطابق نہیں اور ہمارے خیال میں یہ مسلم مفاد کے لئے خطرناک ہے۔بہرحال جماعت احمدیہ اور پنجاب کے مسلمان اور بعض دوسرے صوبوں کے مسلمان بھی فی الحال مخلوط انتخاب کے طریقہ کو منظور کرنے کیلئے تیار نہیں۔اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ جداگانہ انتخاب کا حق مسلمانوں کے لئے جاری رہنا چا ہئے۔اور دوسری جماعتوں کو بھی جو اسے پسند کریں ، ملنا چاہئے اس اصل کو کانسٹی ٹیوشن CONSTITUT ON، میں اس طرح شامل کیا جاوے کہ جب تک منتخب مسلم ممبران اسمبلی میں سے ۳/۴ متواتر 3۔اسمبلیوں میں اس کی تنسیخ کے لئے رائے نہ دیں، نہ بدلا جاۓ۔اور پھر مخلوط انتخاب کا طریقہ اس وقت تک اس صوبہ میں رائج نہ کیا جائے جب تک ممبران کی کثیر تعداد اس کے مخالف ہو۔اور کانسٹی ٹیوشن میں ایسی دفعہ موجود ہونی چاہئے اس کی رو سے مخلوط انتخاب کا فیصلہ ہو جانے کے بعد بھی اگر کسی وقت مسلم ممبروں کی تین چو تھائی اس کو اپنے حق میں مضر خیال کرنے لگے اور پھر جداگانه انتخاب کی طرف عود کر نا چا ہنے تو اس معاملہ کا تصفیہ مسلمان رائے دہندگان کے مشورے پر چھوڑا جائے۔تاہم مخلوط انتخاب بطور تجربہ ایک ایسے صوبہ میں رائج کیا جائے جس کی قلیل التعداد اقوام اس کے رواج کو پسند کریں۔مثلا ًبمبئی میں یہ ہو سکتا ہے اگر سندھ کو اس سے علیحدہ کر دیا جائے۔۱۶- مذہبی امور میں سے کوئی بات فیصلہ نہ کی جائے جب تک اس قوم کے تین چوتھائی ممبر جس پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے اس کے حق میں رائے نہ دیں اور فیصلے کرنے کے بعد بھی اگر اتنی ہی تعداد ممبروں کی اس کو چھوڑنا چاہئے تو اس کو چھوڑ دیا جائے۔۱۷۔اس وقت تمام فرقہ وارانہ مخالفت اور لڑائیوں میں ایک قوم دوسری قوم کو