انوارالعلوم (جلد 9) — Page 550
۵۵۰ رسول کریم کی محبت کا دعویٰ کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں ؟ رہی تھیں مسلمان غفلت کی نیند سو رہے تھے اور انہیں معلوم نہ تھا کہ دوسری اقوام کے دلوں میں ہماری نسبت کیا خیالات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ان فتنہ انگیز مصنفوں کی جرات بھی اس غفلت کی وجہ سے بڑھتی گئی۔اور آخر ’’رنگیلا رسول‘‘، ’’مسلمانوں کا خدا ‘‘ اور ’’ وچتر جیون‘‘ جیسی کتب شائع ہونے لگیں جو زبان درازی اور فحش کلامی میں پہلی کتب سے بھی سبقت لے گئیں۔اگر مسلمان پہلے ہی ہوشیار ہو جاتے اگر وہ پہلے ہی اس مرض کے علاج کی طرف توجہ کر لیتے تو یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔مگرانوں کے علاج سے بے پرواہی کی گئی اور باطل پرستی کی روح اور بھی دلیہ ہو گئی اور اس نے مذکورہ بالا کتب سے بھی بڑھ کر قدم مارا۔پہلے تجربہ کی بناء پر یہ یقین کر لیا گیا کہ مسلمان کا دل لوہے کا ہے، اس کا کلیجہ پتھر کا ہے، وہ ہر اک منہ کو برداشت کر سکتا ہے، اس کی غیرت قصہ ماضی ہو چکی ہے اور اس کا عزم حکایت گزشتگان بن چکا ہے۔چنانچہ آج مجھے اس تازه حملہ کو مسلمانوں کے سامنے رکھنے کا ناخوشگوار فعل ادا کرنا پڑا ہے۔ممکن ہے بعض لوگ مجھے بھی گالیاں دیں کہ میں نے دشمن کے اقوال نقل کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم فدته نفسي و اھلی کی ہتک کی ہے۔لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ گو لوگ مجھے گالیاں ہی دیں لیکن ہرایک شخص جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ایک ذرہ بھی دل میں رکھتا ہے وہ اس حملہ کی حقیقت کو معلوم کر کے بیدار ہو جائے گا۔پس میں اس ذلت کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی عزت کے قیام کے لئے اور مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کی خاطر برداشت کرنی پڑے بخوشی قبول کرتا ہوں۔یہ تازہ حملہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر ایک مضمون کی صورت میں رسالہ ور تمان امرتسر میں شائع ہوا ہے۔اس کا لکھنے والا کوئی دیوی شرن شرما ہے۔جس نے ایک ڈرامہ کی صورت میں معراج نبویؐ کی نقل میں ایک مضمون شائع کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اس میں محمد کی بجائے مہامند کر کے بیان کیا ہے اور حضرت عائشہؓ کا نام بگاڑ کر آشہ لکھا ہے اور حضرت زینبؓ کا نام جنبھی۔اور حضرت علی ؓکانام مرتضیٰ سے بگاڑ کر مرتیو نجا رکھ دیا ہے مگر ان ناموں کے بگاڑنے سے بھی تمسخر مراد ہے۔یہ کوشش مقصود نہیں کہ مسلمان حقیقت کو نہ سمجھیں اور ان کا دل نہ دُکھے کیونکہ جو واقعات اس قصہ میں بیان ہیں وہ سب کے سب اس طرح بیان کئے گئے ہیں کہ ہر اک شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوہی گالیاں دی گئی ہیں اور کوئی خیالی قصہ مذکور نہیں ہے۔