انوارالعلوم (جلد 9) — Page 463
۴۶۳ غور کیا ہے کہ تمام تاریخ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت بزور تلوار ایک قصہ اور افسانہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔جن واقعات سے استدلال کیا جاتا ہے کہ انفرادی مثالیں ہیں اور وہ بھی نامکمل۔کوئی شخص ان مثالوں سے وہ نتائج نہیں نکال سکتا جو نکالے جاتے ہیں۔ہندوستان ہی کو لوہاں مسلمانوں کی حکومت چھ سات سو سال رہی ہے اور سو سال اس حکومت کوختم ہوتے ہو چکے ہیں اگر اس چھ سات سو سال کے عرصہ کی حکومت کی چند مثالیں اور وہ بھی بِلا تفصیلات کے پائی جائیں تو کون عقلمند انسان ان سے یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ اسلام جبراً پھیلایا گیا ہے۔جبر کا اصل مرکز حکومت ہوتی ہے اور حکومت کا جبر افراد سے نہیں قوموں سے ہوتا ہے پس قومی جبرکی مثالیں پیش ہونی چاہئیں۔قوی جبرایس مخفی نہیں ہوتا کہ اس کے لئے انفرادی واقعات جمع کرنے کی ضرورت ہو وہ تو آپ ہی آپ ظاہر ہوتا ہے پھر غضب یہ ہے کہ جو انفرادی واقعات ہیں کئے جاتے ہیں ان کے بھی سب حالات محفوظ نہیں اور جب واقعات سامنے نہ ہوں تو ان کے متعلق بحث و مباحثہ سے نتائج صحیح نہیں کھا کرتے کیونکہ درست نتائج انہی واقعات سے نکلا کرتے ہیں جو سامنے ہوں اور جن کی تحقیق ہو سکتی ہو اب جن واقعات کی بناء پر کہا جاتا ہے اسلام نے جبر کیا اور تلوار سے کام لیا وہ تو سامنے نہیں اور جب وہ سامنے نہیں تو ان کی تحقیق بھی مشکل ہے اس لئے اِدھر اُدھر کی باتوں سے اس قسم کی نتیجے نکال لینے فضول ہیں اور بدامنی پھیلانے کا باعث ہیں۔لیکن باوجود اس کے میں کہتا ہوں اگر کوئی ایسا واقعہ ہے بھی کہ جس سے اس قسم نتیجہ نکل سکتا ہے جو نکالا جاتا ہے تو وہ کسی ایک شخص کا جوش تھانہ کہ اس کے اندر کوئی قومی رنگ تھا۔پس ایک شخص کے جوش کے سبب ساری قوم پر الزام کا عقلمندی کا کام نہیں ہے۔کیمبرج میں ایک سوال کا جواب پچھلے دنوں ہمارا ایک لیکچرار کیمبرج میں یہ لیکچر دے رہا تھا کہ اسلام امن کے ساتھ پھیلا ہے اور اس کی اشاعت کے لئے تلوار نہیں اٹھائی گئی۔اس لیکچر میں کچھ طالب علم بھی تھے ان میں سے ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر سوال کیا کہ اگر اسلام في الواقع امن سے پھیلا ہے تو پھر جنگیں کیوں ہوتی رہیں اس پر ہمارے لیکچرار نے کہامیں ایک سوال آپ کو پو چھتا ہوں پہلے میرے سوال کا جواب دے لیجئے پھر میں آپ کے سوال کا جواب دونگا میرا سوال یہ ہے کہ عیسائیت میں جنگیں کیوں ہوئیں چونکہ عیسائیت کی آپس میں جو جنگیں ہوئیں ان کے مظالم سے ہر ایک مسیحی خاندان شاکی ہے اس کا جواب دینا سائل کے لئے ناممکن تھا اس لئے یہ سوال ہی سن کر وہ بیٹھ گیا کیونکہ اس