انوارالعلوم (جلد 9) — Page 462
۴۶۲ سکتیں۔اور ان کی زندگیاں امن سے نہیں گزر سکتیں۔اسلام جبر سے پھیلایا صبرسے منافرت اور حقارت پھیلانے کے لئے جہاں کتابیں شائع کی جارہی ہیں وہاں اس بات کی بھی اشاعت کی جاتی ہے کہ اسلام جبر سے پھیلا۔مضمون کثرت سے پھیلایا جا رہا ہے حالانکہ جس قدر امن کے ساتھ اسلام صرف اپنی تعلیمی خوبیوں کے لحاظ سے پھیلا اس کی مثال کہیں نظر نہیں آتی لیکن باوجود اس کے یہی کہا جاتا ہے اور بڑے زور شور سے کہا جاتا ہے کہ اسلام جبر سے پھیلا۔اچھا اگر فرض بھی کر لیا جائے اسلام جبر سے پھیلا تو اس زمانہ میں ان پرانے اور پچھلے قصوں کو دُہرانے سے کیاحاصل؟ اور ان کو تازہ کرنے سے کیا فائده؟ ایسے لوگ جو یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اسلام جبرسے نہیں پھیلا اگر وہ فرض بھی کر لیں کہ اسلام جبر سے پھیلا اور اس جبر کے فرضی اور وہمی قصے بھی پھیلائے جائیں تو بھی اس سے ہندووں کو کیا فائدہ؟ یہ جبر جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ہوا ہو چکا اب واپس نہیں آسکتا۔اس صورت میں چھے قصوں کے دہرانے سے سوائے لڑائی اور فساد کے اور کوئی بات پیدا نہیں ہو سکتی۔لیکن میں کہتا ہوں اسلام کے لئے کوئی جبر نہیں کیا گیا اسلام جب جبر کی تعلیم ہی نہیں دیتا تو یہ بات کس طرح قائل تعلیم ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں نے اس کے لئے جبر روا رکھا۔اس مجمع میں ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی۔میں ان سب سے کہتا ہوں وہ گھروں میں جا کر اس پر غور کریں کہ پچھلے قصوں کے دہرانے سے فائدہ کیا ہے ان سے سوائے فساد پیدا ہونے کے اور کیا امید ہو سکتی ہے۔پچھلے قصوں کو دہرانا عام اس سے کہ وہ فرضی ہوں یا اصلی ہمیشہ فساد کا موجب ہوا کرتا ہے۔پس میں ہندوؤں سے کہتا ہوں اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ جبر ہوا تو اب اس جبر کے قصے بیان کرنے سے فساد پیدا ہو گا رکے گا نہیں اس لئے چاہئے کہ اول تو وہ اپنے اس غلط خیال کو دل سے نکال دیں گے اسلام جبر سے پھیلا اور اگر یہ نہیں مان سکتے تو بھی چاہئے کہ ملک کے امن کی خاطر ان فرضی قصوں کو جن کو دو اصلی سمجھتے ہیں اور دُہرائیں نہیں کیونکہ باوجود اس بات کے جان لینے کے کہ اس قسم کے پرانے تھے بیان کرنے سے فتنہ و فساد ہوتا ہے اگر کوئی شخص اس بات سے نہ رُکے تو وہ ملک اور قوم کا خیر خواہ نہیں بلکہ دشمن ہے۔وہ امن پسند نہیں بلکہ فساد کو پسند کرتا واقعات گذشتہ کی تحقیق یہ کہہ دینا کہ اسلام جبرسے پھیلا اور اس کے لئے تلوار کو حرکت دی گئی بلکل غلط بات ہے میں نے اس امر پر خوب