انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 461

۴۶۱ ان کے ساتھ مل کر رہنا چاہئے۔اس کے ساتھ ساتھ دوسری طرف مذہبی روا داری بھی ہونی چاہئے ایک دوسرے کو بُرا نہیں کہنا چاہئے اور آپس میں محبت کے ساتھ رہنا چاہئے۔لیکن میں افسوس کے ساتھ اس بات کا اظہار کرتا ہوں بجائے اس کے کہ یہ باتیں اختیار کی جائیں ان کے برخلاف کوشش کی جارہی ہے اور ملک میں یہ ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔پس دو بڑی قومیں جو ہندوستان میں بستی ہیں اگر ان باتوں کو اختیار کر لیں تو ان کی زندگی آرام سے گزر سکتی ہے اور اگر وہ ان کے خلاف کوشش کریں گی جیسا کہ کر رہی ہیں تو امن کی زندگی تو کجاوہ زندہ ہی نہیں رہ سکتیں۔ہندوؤں کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کا خیال رکھیں اور انہیں اپنا سمجھیں اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہندوؤں کا خیال رکھیں اور انہیں اپناہی سمجھیں۔اگر دونوں قوموں میں سمجھوتہ ہو کر یہ طریق اختیار کر لیا جائے تو ہندو مسلم سوال بالکل مٹ جائے گا اور امن اور ترقی کی راہیں کھل جائیں گے۔مگر افسوس کہ اس وقت بالکل اس کے خلاف ہو رہا ہے۔مثلاً گو مسلمان پہلے ہی سرکاری دفاتر میں بہت کم ہیں مگر پھر بھی ہندوؤں کی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں دفاتر سے نکال دیا جائے اور جو حقوق انہیں حاصل ہیں ان سے بھی انہیں محروم کر دیا جائے۔اسی طرح بعض اوقات مسلمانوں کا حال ہو جاتا ہے۔حالانکہ دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے اور ہندوؤں کو مسلمانوں کی نسبت زیادہ خیال ہونا چاہئے کیونکہ مسلمان کمزور حالت میں ہیں۔منافرت پھیلائی جارہی ہے میں چونکہ انصاف سے کہنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں اس میں صاف صاف کرتا ہوں کہ مسلمان اس لئے ہندوؤں کا ساتھ نہیں دیتے کہ وہ جانتے ہیں ہندو طاقتور ہیں وہ ہمیں نقصان پہنچائیں گے اور ہمارے معاملہ میں انصاف سے کام نہ لیں گے اور ہندو مسلمانوں سے اس لئے رواداری نہیں برتتے کہ یہ خیال کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے اس لئے ان کو نکال کر تمام ملک میں ایک ہی قوم کی حکومت قائم کر لینی چاہئے۔اگر ہندوؤں کی طرف سے رواداری کا سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیا جائے تو وہ آسانی کے ساتھ ہندووں کے ساتھ مل سکتے ہیں مگر ایسا نہیں کیا جاتا۔اور میں دیکھتا ہوں کہ ایک طرف تو مذہبی رواداری کا جذبہ مفقود ہے اوردوسری طرف مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے لیکچروں کے ذریعہ سے بھی اور کتابوں کے ذریعہ سے بھی ایک دوسرے کے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے۔انبیاء کو گالیاں دی جاتی ہیں بزرگوں کی توہین کی جاتی ہے۔اس قسم کے تمام کام حقارت اور نفرت کے جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والے ہیں جن سے قومیں آرام سے نہیں رہ