انوارالعلوم (جلد 9) — Page 435
۴۳۵ نیچے آئیں۔میری طرف انہوں نے لکھا کہ اس قسم کے حالات پیدا ہو رہے ہیں کہ مجھے خطرہ ہے کہ میرے پہلے تمام حقوق تباہ ہو جائیں۔میں نے انہیں لکھا کہ آپ توکل کریں اور گھبرائیں نہیں۔اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ ان کے مد مقابل انگریز ھایہ حالات بالکل بدل گئے حتی کہ اس انگریز نے میری طرف لکھا کہ مجھے مصیبت سے بچایئے۔جب ہم روزانہ دعاؤں کی قبولیت کے نمونوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہم کیسے ان کے اثرات سے انکار کریں۔چھٹافائده دُعا کا یہ ہے کہ اس سے دل میں قوت اور طاقت پیدا ہوتی ہے اور بُزدلی دور ہوتی ہے کیونکہ بُزدلی مایوسی سے پیدا ہوتی ہے لیکن دُعا کرنے والا مایوس نہیں ہوتا۔جو شخص دُعا کرے گا اللہ کے حضور یہ یقین لے کر جائے گا کہ خدا ہے اور وہ میری مدد يا حاجت روائی کر سکتا ہے اس سے اس کے دل میں تسلی ہو گی جس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ یہ جزع فزع سے محفوظ رہے گا اور دوسرے مسلمان بھی کام کے لئے مہیا کرے گا۔ساتواں فائدہ یہ ہے کہ جس وقت دُعاکا قبول نہ ہو ناہی اس کا قبول ہو ناہوتاہے۔بہت سی باتیں ہیں جن کو انسان مفید سمجھتا ہے لیکن وہ مضر ہوتی ہیں۔اس لئے بعض دفعہ دُعاکا قبول نہ کرناہی انسان کے لئے رحمت ہوتا ہے۔آٹھواں فائده یہ ہے کہ جس جگہ پر تدابیر رہ جاتی ہیں وہاں دعا کام کرتی ہے۔جب تدابیر اور ظاہری اسباب کا سلسلہ منقطع نظر آتا ہے اس وقت دُعا اپنا اثر دکھاتی ہے۔میرے ساتھ بیسیوں دفعہ ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ جن میں تمام دنیوی سامان کٹ گئے اس وقت دعا کے بعد میرے خدا نے میری دعا سنی اور نہ صرف دُعاسنی بلکہ بشارت دی۔نواں فائدہ دعا کا یہ ہے کہ دعا الله تعالی کی ہستی کا ثبوت ہوتی ہے دعامانگنے کے بعد جو نتیجہ پیدا ہوتا ہے وہ خدا تعالی کی ہستی پر زیادہ ثبوت ہوتا ہے۔نسبت اس کے کہ آپ ہی آپ کوئی کام ہو جائے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ دعا توجہ سے ہوتی ہے اور توجہ خوداثر پیدا کرتی ہے تو کیوں نہ کہیں کہ جو کام ہوا ہے وہ توجہ کے اثر کا نتیجہ ہے۔بے شک یہ اہم سوال ہے جس کا میں یہ جواب دیتا ہوں کہ علم النفس کے ماہر یہ کہتے ہیں کہ توجہ اس وقت اثر کرتی ہے جب ذہن میں یہ لایا جائے کہ ہر بات یوں ہو گئی۔توجہ کے لئے یہ سکھاتے ہیں کہ تم ذہن میں یہ خیال رکھو کہ یہ بات یوں ہو گئی۔لیکن یہاں تو اس کے اُلٹ دُعا کرنے والا یہ ذہن میں پیدا کرتا ہے کہ یا اللہ! میں کچھ نہیں ہوں مجھے یہ کام امن ہے تری یہ کام کر سکتا ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ