انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 4

۴ افراد سلسلہ کی اصلاح و فلاح کے لئےدلی کیفیت کااظہار کا خیال ہو اور انہوں نے اظہار نہ کیا ہو۔ان نادانوں نے میرے پہلے حالات پر نظر نہ کی اور اگر کی ،تو باوجود ان حالات کے جانتے ہوئے بھی مجھ پر بد ظنی کی۔نبی کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے تورسول من انفسکم ۱؎کہ یہ رسول تو تم میں ہی رہا ہے تم اس کے حالات سے خوب واقف ہو۔اسی طرح آج میں بھی کہتا ہوں۔او نادانو اور جاہلو! میں بھی تم میں بچپن سے رہتا ہوں۔تم نے میرے حالات کو جانتے ہوئے پھر میرے متعلق کیونکر اس قسم کی بد ظنی کی اور میرے پہلے حالات پر کیوں نظر نہ کی۔تم جانتے ہو کہ جس زمانہ میں غم اور حُزن کے بارے تمہاری کمریں ٹیڑھی ہو رہی تھیں اس وقت میرے جادہ استقلال میں فرق نہ آیا۔اور میں نے کبھی غم اور حُزن کو پاس نہیں آنے دیا۔یعنی تم اس پرانے تجربہ کی بناء پر سمجھ سکتے تھے کہ یہ خیال تمہاری اپنی نظر کی نابینائی کا نتیجہ ہے۔تم اپنی نظرکی نا بینائی کو میری طرف تو منسوب نہ کرتے۔تم میرے ان مضامین کو جو میں نے راستہ سے لکھے دیکھتے۔اگر ان مضامین اور خطبہ میں کوئی ترتیب نظر نہ آتی تودھوکا احتمال ہو سکتا تھا لیکن اگر ان میں باہم ترتیب ہو اور ایک ایک انچ باہم مطابق ہو تو تم کو سمجھ لینا چاہئے تھا کہ تمہارا خیال تم کو غلطی میں مبتلاء کر رہا ہے اور تمہارا یہ خیال محض ایک بد ظنی ہے۔میں سمجھتا ہوں دو چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ان کو غلطی لگی اور انہوں نے بدظنی کی۔ایک میرے چہرہ پر غم کے آثار اور آنسو۔دوسرے میرا مجلس میں آتے وقت لوگوں سے الگ رہنے کی درخواست کرنایا مجلس سے علیحدہ کھڑے رہنا۔اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو آنکھیں دی ہوئی تھیں، اگر ان میں کچھ بینائی ہوتی تو ان کو معلوم ہو تا کہ میری یہ علیحدگی آٹھ دن سے جاری ہے۔اور اس کی وجہ اعصابی دردہے جس کا لقوہ کی صورت اختیار کرنے کا ڈر تھا اور اسی وجہ سے با وجودیکہ امۃ الحیی کی حالت اچھی تھی مگر میں مسجد میں نہیں آتا تھا۔میں نے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سے بھی جو میرے معاج تھے کہا تھا کہ جب لوگ مجھ پر ہجوم کر کے آتے ہیں تو معا ًمجھے اعصابی دور شروع ہو جاتا ہے، میرے پٹّھے کھنچنے لگتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ مجھے لقوہ ہو جائے لیکن اب اس واقعہ کے بعد باوجود اس تکلیف کے موجود ہونے کے معا ًنماز میں آنا شروع کردیا ہے تاکہ میری طرف کوئی یہ منسوب نہ کرے کہ میں ایسے رنج میں مبتلا ہوں جس کو برداشت نہیں کر سکتا۔