انوارالعلوم (جلد 9) — Page 338
۳۳۸ کام لیتے ہوئے یہ الفاظ اسے پاس بلانے کے لئے استعمال فرمائے ہیں اور اس قسم کے الفاظ میں جیسے ایک میزبان دستر خوان پر سے کسی چیز کے اٹھا کر دینے کے لئے مہمان سے کہہ دے کہ فلاں چیز مجھے عنایت فرمائے۔اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہوں گے کہ وہ مہمان کی تھی اور اس سے میزبان سوال کرتا ہے۔غرض اپنا آپ مجھے عطا کر، کے صرف یہ معنے ہیں کہ میرے قریب ہو کر بیٹھ نہ کہ درخواست نکاح۔دوسرا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ چونکہ جس وقت نکاح ہوا ہے اس وقت یہ عورت مدینہ میں موجود نہ تھی اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے کہ عورت کی رضامندی حاصل کرنا نکاح کے لئے نہایت ضروری ہے ایسا نہ ہو کہ بھائی نے اپنی عزت کے خیال سے بِلا اجازت ہی نکاح پڑھوا دیا ہو اور یو نہی کہہ دیا ہو کہ بہن راضی ہے۔اس سے کہا کہ ممبئ نفت لی یعنی اب اپنی مرضی کا اظہار کر دے کہ تُو میرے نکاح میں خوشی سے آئی ہے۔اس نے اس پر چونکہ ناراضگی کا اظہار کیا آپ نے اس کو اس کے گھر بھجوا دیا قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نکاح کرنے والی عورتوں کے متعلق لفظ ہبہ استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورة احزاب میں ہے امراة مؤمنة ان وھبت نفسها للنبي إن أراد النبى ان يستنكحها ۶۶؎ یعنی وہ عورت بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جائز ہے جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نکاح میں لانا چاہیں اور وہ اپنے نفس کو اس امر کے لئے پیش کر دے۔مصنّف ہفوات کی نقل کردہ احادیث سے یہ بھی استدلال کیا جا سکتا ہے کہ اس عورت کا یہ کہتا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں تانتا ہے کہ اس کا نکاح نہیں ہوا تھا۔یہ استدلال بھی غلط ہو گا۔اس لئے کہ اس عورت نے جیسا کہ خود ظاہر کیا ہے۔یہ الفاظ اپنا رُعب جمانے کے لئے کہے تھے اور اس نے خیال کیا تھا کہ اس طرح آپ کے دل میں میری محبت بڑھ جائے گی۔پس ان سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا نکاح آپ سے نہیں ہوا تھا یا یہ کہ اسے معلوم نہ تھا ابواسید اس کو لائے۔راستے میں وہ ان سے وہ طریق پوچھتی رہی جس کا اختیار کرنارسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے لئے ضروری تھا۔پھر کیونکہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ناواقف تھی۔پس اس فقرہ کا محرک صرف یہ خیال تھا کہ اس قسم کی بات کہنے سے اس کا درجہ بڑھ جائے گا۔ایک یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ اگر واقعہ میں اس کا نکاح ہو چکا تھا تو پھر اس نے یہ کیوں کہا کہ میں ان کو نہیں جانتی۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ طبعی جواب ہے جو ایسے موقعوں پر دیا جاتا ہے