انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 339

۳۳۹ اور علی الخصوص عورتیں دیا کرتی ہیں۔لوگوں کا یہ سوال کرنا کہ تُو جانتی ہے کہ یہ کون تھا؟ یہ بھی اظہار غصہ کے لئے تھا جیسا کہ ناراضگی میں ایسا فقرہ کہا جاتا ہے کہ مجھے معلوم ہے میں کون ہوں؟ یا تجھے معلوم ہے یہ کون ہے ؟ اور اس عورت کا جواب بھی غصہ اور نامرادی کے نتیجہ میں تھا کہ میں نہیں جانتی کہ یہ کون ہے یعنی میں نہیں پرواہ کرتی کہ یہ کون تھا چنانچہ حقارت کے لئے لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ فلاں شخص کون ہے حالانکہ بچپن سے اس شخص کے ساتھ تعلق اور واقفیت ہوتی ہے۔غرض یہ سب استدلال باطل ہیں۔اور واقعات کے مقابل میں قیاسات کو رکھنا عقل و دانش کے بالکل برخلاف ہے۔جب کہ اسی روایت کا راوی صاف الفاظ میں یہ بیان کرتا ہے کہ اس عورت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی ہوئی تھی اور جب کہ ابواسید جو اس عورت کو لائے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ اس عورت کی شادی ہو چکی تھی۔اور جب کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس کی شادی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو چکی تھی اور آپ نے اس کو طلاق دے دی۔تو پھر بعض اشارات سے جن کے کئی معنے ہو سکتے ہیں یہ نتیجہ نکالنا کہ شادی نہیں ہوئی تھی اور واقعات اور تفصیلات کو ترک کر دینا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ اسی طرح جب کہ امام بخاری نے اس روایت کے نتیجہ میں یہ نکالا ہے کہ عورت کو اس کے منہ پر طلاق دے جاسکتی ہے۔اور جب کہ انہوں نے اسی روایت سے پہلے اس عورت کے متعلق حضرت عائشہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ اس عورت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد نکاح طلاق دی تھی۔اور جب کہ انہوں نے اس روایت کے بعد اسی راوی کی زبانی یہ روایت نقل کی ہے کہ اس عورت کو رسولکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کرنے کے بعد بلوایا تھا۔یہ نتیجہ نکالنا کہ امام بخاری کا اس روایت کے نقل کرنے سے یہ منشاء تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اقدام زنا کا الزام لگایا جائے کیسا صریح جھوٹ اور کھلا کھلا دھوکا ہے۔میں نے اوپر بیان کیا تھا کہ یہ دونوں روایتیں جو مصنّف ہفوات نے بیان کی ہیں در حقیقت ایک ہی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔میرے نزدیک اس امر کا ثابت کرنا بھی مصنّف ہفوات کی اصل نیت پر سے پردہ اٹھادیتا ہے اس لئے میں اس کو ثابت کر دینا بھی ضروری سمجھتاہوں۔علاوہ اس کے کہ تمام دوسری روایات اس امر کو ثابت کرتی ہیں کہ یہ دونوں حدیثیں ایک ہی واقعہ کے متعلق ہیں۔ان دونوں میں مندرجہ ذیل باتوں کا اشتراک بھی اس امر کو روز روشن کی