انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 315

۳۱۵ حق الیقین الفاظ تراجعین کے ہیں یعنی بات کا جواب دینا اور واقعہ بتا رہا ہے کہ جواب دینے سے کیا مراد ہے۔کیونکہ یہ بات حضرت عمرکی بیوی نے کہی ہے اور اس کا واقعہ حضرت عمر یہ بیان فرماتے ہیں کہ آپ کسی بات کو سوچ رہے تھے کہ آپ کی بیوی نے مشورۃ ً کوئی بات کہہ دی کہ جس امر میں آپ کو فکر ہے۔آپ اس میں اس اس طریق سے کام کر سکتے ہیں۔حضرت عمر کو دستور عرب کے مطابق عورت کا مشورہ میں دخل دینا ناپسند ہوا ہے اور آپ نے اسے ڈانٹااس پر اس نے کہا کہ آپ کیوں ناراض ہوتے ہیں؟ اس طرح تو آپ کی بیٹی آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سے بھی کر لیا کرتی ہے۔پس مراجعت کے مہینے خود الفاظ حدیث سے ہی کھل جاتے ہیں یعنے بات میں دخل دے لینا نہ کہ تُوتُو میں میں کرتا اور لڑنا جو مضمون کے مصنّف ہفوات نکالنا چاہتے ہیں حضرت عمر کی بیوی نے کہ حضرت عمر کی کسی بات کو رد کیا تھا کہ اس کی نسبت به افظ استعمال کیا گیا ہے۔اگر اس کے لئے یہ لفظ صرف مشورہ دینے پر بولا گیا ہے تو اس حدیث میں وہی لفظ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی نسبت استعمال ہوا ہے تو اس کے وہی سونے کیوں نہ کئے جاویں اور کیوں اس کے معنے زیادتی کے کئے جاویں۔باقی رہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی کیا گیا ہے کہ آپ اس جواب سے دن بھر ناراض رہتے تھے تو اول تو یہ حضرت عمر کی بیوی کے لفظ ہیں اور ان کی تصدیق نہ حضرت عمر نے کی ہے نہ حضرت حفصہ نے کیونکہ جب انہوں نے حضرت حفصہ کے سامنے واقعہ بیان کیا ہے تو انہوں نے اس امر کی تو تصدیق کی ہے کہ ہم آپ کے اصرار کر کے بات کر لیا کرتی ہیں لیکن اس کا اقرار نہیں کیا کہ آپ بھی سارا سارا دن ناراض رہتے ہیں۔پس یہ ایک عورت کا خیال ہے اور اگر ہم یہ کہہ دیں کہ یہ خیال غلط تھا تو حدیث کی صحت يا امام بخاری کی شخصیت پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔دوسرے اگر اس امر کو نظر انداز بھی کر دیا جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناراض رہنے کو بطور واقع بیان نہیں کیا گیا بلکہ ایک عورت کے خیال کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس کی حضرت حفصہ تصدیق نہیں کرتیں تو بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ پر کوئی زیادتی کرتی تھیں بلکہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ مشورہ میں کوئی ایسی بات کہہ بیٹھتی تھیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کہنی مناسب نہیں ہوتی تھی۔اور آپ اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرما دیتے تھے اور یہ بات ان دو شخصوں کے تعلقات میں جو اخلاق اور علم