انوارالعلوم (جلد 9) — Page 314
۳۱۴ حق الیقین ہیں کہ ان کا دل بالکل خدا کی طرف متوجہ تھا اور جو غلطی ہوئی تھی محض سہواًتھی پس یہ اعتراض اس جگہ پڑ تاہی نہیں۔تیسرا جواب اس کا یہ ہے کہ یہ آیت تو قرآن کریم کی ہے۔امام بخاری کی روایت تو نہیں جس پر اعتراض ہے۔پس اعتراض امام بخاری پر نہیں اللہ تعالیٰ پر ہے۔اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ یا تو اس آیت کے معنے برے ہیں یا اچھے۔اگر اس کے یہ معنے ہیں کہ آپ کی دو بیویاں خدا سے پھر گئی تھیں۔اور اگر یہ درست ہے کہ خدا سے دور ہونے والی بیویاں نبی کی زوجیت میں نہیں سکتیں تو پھر امام بخاری ہی کا یہ فرض نہیں کہ وہ یہ بتائیں کہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو بیویوں کو الگ کیوں نہ کر دیا۔بلکہ مصنف ہفوات کا بھی جب تک وہ مسلمان کہلاتے ہیں فرض ہے کہ بتائیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے حکم کے خلاف کام کیوں کیا۔پس ان کا یہ اعتراض بخاری پر نہیں بلکہ در حقیقت قرآن کریم پر ہے کیونکہ فقد صغت قلوبکما بخاری کی روایت نہیں بلکہ قرآن کریم کی آیت کا ایک حصہ ہے۔اور اگر اس آیت کے معنے اچھے ہیں اور اس میں ازواج مطہرات کی تعریف کی گئی ہے تو پھر مصنف ہفوات نے اس آیت کی بناپر اعتراض کیوں کیا ہے؟ جب بیویاں نیک تھیں تو ان کے علیحدہ کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہی کس طرح پیدا ہو سکتا ہے؟ تیسرا اعتراض مصنف ہفوات کا یہ ہے کہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ پر ایسی زیادتیاں کریں کہ کئی کئی دن تک آپ غم و غصہ میں مبتلاء رہیں اور کار رسالت سے معطل رہیں۔اس اعتراض سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف صاحب ہفوات کا دماغ قرت ایجاد کا وافر حصہ رکھتا ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ ناپسند اور مکروہ باتوں کی ایجاد ہی میں مشغول رہتا ہے۔اول تو حدیث میں کوئی ایسا لفظ موجود نہیں جس میں ازواج مطرات کی زیادتیوں کا ذکر ہو۔اول تو حدیث کے الفاظ سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے دستور کے خلاف اس حریت کی روشنی میں جو اسلام نے پھیلائی تھی۔اور ان محبت کے تعلقات کے نتیجہ میں جو میاں بیوی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا کرنا چاہتے تھے۔آپ کی بیویاں بعض دفعہ بعض معاملات میں آپ کو مشورہ دے دیا کرتی تھیں اور بعض دفعہ اس تعلق محبت کی بنا پر آپ پر اپنی بات کے منوانے کے لئے اور بھی دے دیا کرتی تھیں۔کیا اس بات کانام کوئی شخص زیادتی رکھ سکتا ہے؟ حدیث میں