انوارالعلوم (جلد 9) — Page 296
۲۹۶ چیزوں سے زیادہ تھی۔تو مصنف ہفوات کے کئے ہوئے معنی الفاظ حدیث سے کیونکر پیدا ہوئے۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں کل کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد بعض ہوتا ہے۔جیسے ملکہ سبا کی نسبت آیا۔وَأُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ (النمل: 24) اس کو ہر ایک چیز دی گئی تھی۔حالانکہ ایک چھوٹا سا ملک اس کو ملا تھا۔نہ دنیا کی سب قسم کی نعمتیں اس کو حاصل تھیں اور نہ دین ہی اس کو حاصل تھا۔پس جب کُلّ کا لفظ استعمال کر کے بھی بعض کے مونے ہوتے ہیں تو جہاں بالکل ہی کوئی لفظ حصر کے لئے استعمال نہیں ہوا وہاں یہ معنی کرنا کہ رسول کریم ﷺ کو سب ماسوا پر عورتیں اور خوشبو محبوب تھے۔کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ دوسرا پہلو مصنف ہفوات کے اعتراض پر غور کرنے کا یہ ہے کہ کیا عورتوں سے محبت رکھنا اور خوشبو کو پسند کرنا گناہ ہے یا روحانی ترقی کے حصول کے منافی ہے۔اور اہل اللہ کے طریق سے نہیں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی شئے کی محبت تین طرح کی ہوتی ہے یا تو ایسی محبت کہ دوسری اشیاء کو بالکل بھلا دے یا ایسی محبت جو دوسری اشیاء کی محبت کے ساتھ دل میں رہے اور کسی اور محبت کے طفیل سے پیدا ہو۔یا ایسی محبت جو محب کو مغلوب تو نہ کر دے لیکن مستقل محبت ہو جسے دوسرے الفاظ میں طبعی محبت کہنا چاہئے۔جو محبت کہ دوسرے تعلقات بھلا دیتی ہے اور ان کو نظر میں ادنیٰ اور حقیر کر کے دکھاتی ہے وہ تو ما سوی اللہ سے ناجائز ہے اور گناہ ہے لیکن ایسی محبت جو تابع ہو اللہ تعالیٰٰ کی محبت کے اور اس کی محبت کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہو عین ثواب اور موجب زیادتی ایمان اور ترقی درجات ہوتی ہے اور وہ محبت جو نہ تو اللہ تعالیٰٰ کی وحی او رحکم کے ماتحت پیدا ہو اور نہ ماسوا پر غالب ہو بلکہ حدود کے اندر رہے یہ محبت طبعی محبت کہلاتی ہے اور جائز و حلال ہے۔گو موجب ثواب اور باعث ترقی درجات نہیں۔ہاں یہی محبت نیک اور باخدا انسان کے اندر ترقی کرتے کرتے دوسری قسم کی محبت بن جاتی ہے۔پس محبت تو نہ نیکی کے منافی ہے نہ نبوت و رسالت کی شان کے خلاف۔بلکہ بعض وقت تقویٰ کے خلاف ہوتی ہے اور بعض وقت نہ خلاف نہ مطابق اور بعض وقت عین تقویٰ میں داخل ہوتی ہے۔ان تین قسم کی محبتوں کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے چنانچہ سورۃ بقرۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلّهِ } (البقرة :166)ترجمہ: اور لوگوں میں سے ایک جماعت ایسی ہے جو اللہ کے شریک بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ سے محبت کرنی چاہئے اور مومن سب سے