انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 198

انوار العلوم جلد9 ۱۹۸ بیماریوں کے علاج الگ بتائے جانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ مَیں اس جگہ ان علاجوں کے بیان کرنے کی گنجائش پاتا ہوں۔جو دوسرے مذاہب نے بیان کئے ہیں یا صوفیاء نے بیان کئے ہیں۔اس لئے مَیں اوپر کی ابتدائی تشریحوں کے بعد میں گناہ کے علاج کے متعلق وہ اسلامی تعلیم جو میری سمجھ میں آئی ہے بیان کرتا ہوں: اسلام نے علاجِ گناہ کے متعلق گناہ پیدا ہونے کے بعد اس کا علاج کس طرح کیا جائے؟ کے سوال سے پہلے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ کیا احتیاط کی جائے کہ گناہ پیدا ہی نہ ہونے پائے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سوال کے جواب میں گناہ کے دور کرنے کی کنجی ہے۔کپڑے کے میلا ہو جانے کے بعد اس کے دھونے سے کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم ایسی تدبیر اختیار کریں کہ وہ میلا ہی نہ ہو۔اس میں کیا شک ہے کہ یہ سب سے بہتر اور ضروری امر ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے دوسرے مذاہب کے برخلاف صرف اسی طرف توجہ نہیں دلائی۔کہ گناہ کا قلع قمع کس طرح کیا جائے۔بلکہ اِس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ سب سے پہلے یہ کوشش کرو کہ گناہ پیدا ہی نہ ہو۔مگر مَیں افسوس سے کہتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم نے ادھر توجہ دلائی اور بعض اسلامی بزرگوں نے بھی اس پر زور دیا ہے۔بحیثیت قوم مسلمانوں نے ادھر پوری توجہ نہیں کی۔اور اِس امر کو نظر انداز کر دیا ہے کہ گناہ انسان کے بلوغ سے پہلے پیدا ہوتا ہے۔جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلاں اب گناہ کرنے لگا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گناہ کا بیج جو اس کے اندر تھا۔وہ درخت بن کر ظاہر ہو رہا ہے۔ورنہ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ بیج نہ ہو اور درخت پیدا ہو جائے ہر گز نہیں۔اگر گناہ کی قابلیت پہلے ہی نہ تھی تو پھر وہ بالغ ہونے پر کہاں سے آگئی۔پس اصل بات یہ ہے کہ گناہ بچپن سے پیدا ہوتا ہے اور ہر ایک بدی بلوغ سے پہلے انسان کے دل میں جاگزین ہو جاتی ہے۔بلکہ بعض دفعہ تو پیدا ہونے سے بھی پہلے بعض بدیوں کی ابتدا شروع ہو جاتی ہے۔جب ایک شخص بالغ ہو جاتا ہے اور علماء کہتے ہیں اسے بدیوں سے بچائو۔تو اس وقت وہ شخص پورے طور پر شیطان کے قبضہ میں جا چکا ہوتا ہے۔میرے اِس کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں سب بدیاں پائی جاتی ہیں بلکہ یہ ہے کہ اس میں گناہ کی طاقت اور ان کا شکار ہو جانے کا میلان پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔مَیں پہلے بتا چکا ہوں کہ اخلاق مادہ کی چند خاصیتوں سے پیدا ہوتے ہیں۔وہی میلان اگر بچپن میں خراب ہو جائیں تو گوبچہ بالکل بے گناہ نظر آئے۔مگر اس کے اندر گناہ کے ارتکاب کا پورا سامان موجود ہوگا۔