انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 96

۹۶ زندہ رہتا تو ایسا تقویٰ اور طہارت پیدا کرتا کہ خدا کا وہب اس پر ضرور ہو تا۔خاتم کا مفہوم اسی طرح خاتم النبین میں عام کے معنے مُہر کے ہیں۔اور مہرتصدیق کے لئے ثبت کی جاتی ہے۔جس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ مہر ثبت کرنے والا قرار کرتا ہے کہ یہ میری طرف سے ہے۔اسی غرض کے لئے پہلے بادشاہ رکھتے تھے اور اپنے احکامات پر تصدیق کے لئے ثبت کیا کرتے تھے اور چونکہ ان میں یہ رواج تھا کہ وہ کوئی کاغذ بغیر مہر کے لیتے دیتے نہیں تھے اس لئے آنحضرت ﷺ نے بھی جب بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے تو آپ نے ان پر ثبت کرنے کے لئے مہر بنوائی۔تو مہر ہمیشہ کلام کی تصدیق کے لئے ہوتی ہے۔اس لحاظ سے خاتم النبین کے یہ معنے ہوں گے کہ آنحضرت ﷺتمام انبیاء کی تعلیم کی تصدیق کرنے والے ہیں۔گویا جس تعلیم کی آپ تصدیق کریں گے وہ صحیح ہوگی اور جس پر آپ کی تصدیق نہ ہوگی وہ صحیح نہ ہو گی۔اسی لئے قرآن کریم میں آیا ہے۔مھیمنا عليہ۔کہ قرآن کریم ان انبیاء کی تعلیم کا محافظ ہے اور وہ سب تعلیمیں اس میں جمع کر دی گئی ہیں۔یعنی آنحضرت ﷺ کے ذریعے ان کی تمام صداقتیں محفوظ کر لی گئی ہیں۔اب قرآن کا جو بیان ہے وہ صحیح ہے۔اگر تورات یا انجیل میں اس کے خلاف پایا جاتا ہے تو ان کا بیان صحیح نہیں سمجھا جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں کے متعلق جیسا کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا ہے اگر وہ کچھ بیان کریں تو تم سنو توسہی لیکن لاتصدقوا ھم ولا تکذبواھم ۸؎ نہ اس بیان میں ان کی تصدیق کرو اور نہ تکذیب۔گویا جب آپ نے ان کے تمام صحیح بیان محفوظ کر لئے ہیں تو جو باتیں آپ سے بیان نہیں کیں خواہ اس لئے کہ آئندہ ان کی کوئی ضرورت نہیں اور خواہ اس لئے کہ وہ صحیح نہیں ہمیں ان کی تصدیق یا تکذیب کی ضرورت نہیں۔پس جن باتوں کو قرآن کریم نے غلط قرار دیا ہے ان کو غلط سمجھو اور جن کو صحیح قرار دیا ہے ان کو صحیح سمجھو اور جن سے خاموشی اختیار کی ہے تمہیں بھی خاموشی اختیار کرنی چاہئے تصدیق یا تکذیب کی کوئی ضرورت نہیں۔دیوبندیوں کا چیلنج منظور غیراحمدی مولویوں نے اپنے جلہ میں یہ بیان کیا ہے کہ اگر مسیح موعود کے دولت لُٹانے سے مراد معارف اور حقائق بیان کرنا ہے تو بھی ہم سے بڑھ کر مرزا صاحب نے قرآن کے معارف بیان نہیں کئے اور انہوں نے اشتہار شائع کیا ہے جس میں لکھا ہے:۔"مرزا صاحب کے معارف قرآنیہ ،نئے علم کلام، جدید لاثانی دلائل، نئے انوکھے