انوارالعلوم (جلد 8) — Page 624
۶۲۴ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم احمدی افغانانِ قادیان کے ایڈ ریس کا جواب (فرموده۲۶- نومبر ۱۹۲۴ء) اس وقت جو ایڈریس میں ہماری جماعت کے افغان بھائیوں کی طرف سے پڑھا گیا ہے اس کے اس حصہ کے متعلق جس میں ہماری واپسی پر خوشی کا اظہار کیاگیا ہے اور آئندہ کے متعلق دعا کی گئی ہے میں اپنی طرف سے بھی اور اپنے ہمراہیان سفر کی طرف سے بھی جزاكم الله احسن الجزا۔کہتے ہوئے اس حصہ کی طرف توجہ کرتا ہوں جو نہایت ہی اہم ہے اور نہایت ہی عظیم الشان امر کے متعلق ہے کیا بلحاظ واقعہ کی نوعیت کے اور کیا بلحاظ وقتی کیفیات کے۔یعنی مولوی نعمت اللہ خاں صاحب شہید کا واقعہ۔بعض واقعات دنیا میں اس رنگ کے ہوتے ہیں کہ وہ ایک وقت میں بہت بڑا اثر رکھتے ہیں مگر بعد میں ان کا اثر باقی نہیں رہتا۔اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ جو اپنے زمانہ میں تو معمولی سمجھے جاتے ہیں لیکن بعد میں عظیم الشان تغیر پیدا کردیتے ہیں۔اور ایک واقعات وہ ہوتے ہیں کہ اپنے وقت میں بھی اور بعد میں بھی عظیم الشان اثر چھوڑتے ہیں۔پہلی قسم کے واقعات کی مثال یعنی ایسے واقعات جو اپنے زمانہ میں دنیا کو ہلا دیتے اور تہلکہ ڈال دیتے ہیں مگر بعد میں ان کا کچھ بھی اثر نہیں رہتا جھوٹے مدعیوں کی مثال ہے۔ایسے لوگوں میں سے جو اپنی ہوشیاری ،اپنی ذکاوت اور اپنی منصوبہ بازیوں سے ایک شور برپا کر دیتے ہیں اور دنیا سمجھتی ہے کہ عالَم کو ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک ہلا دیں گے۔کچھ عرصہ کے بعد ان کا سارا زور شور مٹ جاتا ہے ،حالات بالکل بدل جاتے ہیں ،سمند ر ساکن ہو کر چادر کی طرح ہو جاتا ہے گویا طوفان تھا جو آیا او ر گذر گیا۔اور دوسری قسم کے واقعات کی مثال یعنی جو اپنے زمانہ میں کچھ حقیقت نہیں رکھتے لیکن آہستہ آہستہ ان میں ترقی ہوتی جاتی ہے اور عظیم الشان اثر پیدا کر دیتے ہیں، سچے مدعیوں کی مثال ہے۔یہ جب پیدا ہوتے ہیں تو ان کی حالت اور