انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 625 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 625

۶۲۵ آواز اسی کمزور ہوتی ہے کہ اکثر لوگ خیال کرتے ہیں ایسے و عد ے کرنا جنون ہے۔لیکن وہ اس گولہ کی طرح یا اس پتھر کی طرح ہوتے ہیں جو برفانی پہاڑ کی چوٹی سے گرتا ہے۔نئی نئی برف پڑی ہوتی ہے اس لئے نرم نرم برف اس کے ساتھ چمٹنی شروع ہو جاتی ہے جس سے وہ بڑا گولہ بن جاتا ہے۔اور جوں جوں وہ نیچے آتا جاتا ہے اور برف اس کے ساتھ چمٹتی جاتی ہے۔حتی کہ اس میں ایسی حرارت، ایسی بجلی، ایسی کشش اور ایسا جذب پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ پتے، شاخیں بلکہ درخت بھی لپیٹتا جاتا ہے۔اور پھر اس میں اس قدر قوت اور طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ گاؤں کے گاؤں اپنے ساتھ کھینچنے لگتا ہے۔خدا تعالی کی طرف سے آنے والے نبیوں کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ابتداء میں دنیا ان کے دعوی ٰکو سن کر حیران ہوتی اور خیال کرتی ہے کہ کیا یہ تغیر پیدا کر سکیں گے ؟ مگر روز بروز ان کی طاقت بڑھتی جاتی اور دن بدن ان میں زیادہ سے زیادہ جذب پیدا ہوتا جاتا ہے۔وہ ابتداء میں ایک بیج کی طرح ہوتے ہیں اور اس بیج کی طرح جسے ہوا بھی اُڑا کر لے جا لگتی ہے یا اس تنکا کی طرح مجھے چھوٹا بچہ بھی اٹھا کر توڑ سکتا ہے۔مگر کون جانتا ہے کہ جب وہ خدا کے الہام کے پانی کے نیچے آتے ہیں تو اس قدر قوت اور طاقت ان میں پیدا ہو جاتی ہے کہ ساری دنیا بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ان کی مثال سپنچ کی سی ہوتی ہے۔وہ اس طرح اپنے ارادوں اور خواہشوں کو اپنے اندر سے نکال دیتے ہیں جس طرح سپنچ اپنے اندر کے مادہ کو نکال کر خالی ہو جاتا ہے۔وہ اس وقت ایک خالی برتن کی طرح ہوتے ہیں۔جب خدا تعالی کے الہام کی بارش کے نیچے کھڑے ہوتے ہیں اور اس پانی سے بھرنے شروع ہو جاتے ہیں چونکہ ان کے جسم کا ہر ذره خالی برتن کی طرح ہوتا ہے اس لئے اس قدر بھرتے ہیں کہ ان کا اٹھانا مشکل ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ ایسے عظیم الشان تغیر پیدا کرتے ہیں کہ دنیا حیران ہو جاتی ہے۔تیسری قسم کے واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ جو اپنے وقت میں بھی عظیم الشان اثر پیدا کرتے ہیں اور بعد میں بھی ان کی ایک مثال شہیدوں کی شہادت ہے۔یہ اپنے وقت میں بھی دنیا میں شور پیدا کردیتی ہے اور بعد میں بھی۔کیونکہ خدا تعالی نے فطرت انسانی میں یہ بات رکھی ہے اور جب تک انسان زندہ ہے اور اس کے جذبات اور احساسات زندہ ہیں، خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، اس میں یہ بات پائی جائے گی کہ وہ ظلم اور تعدی کو ناپسند کرتا ہے اور فطرت جب تک مرتی نہیں کوئی مذہب اسے دبا نہیں سکتا۔ہند و مذہب با وجود بت پرستی کی تعلیم کے ،عیسائیت باوجود کفارہ کے مسئلہ کے ،یہودیت با وجود انبیاء پرستی کے، زرتشتی مذہب با و جو د نار اور