انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 29

۲۹ علمی نے مجھے یہ کتاب دی تھی۔ان کے پاس میں نے دیکھی۔پھر مانگ کر میں نے پڑھ لی تھی اس سے پہلے وہ کتاب میں نے ماسٹر نواب الدین صاحب سے لے کر پڑھی تھی۔میں مولوی علمی صاحب کو ملنے کے لئے ملکاتا سے ان کے واپس آنے پر ان کو ملنے گیا تھا۔تو وہ کتاب ان کی میز پر پڑی تھی۔صرف یہی ایک کتاب پڑی تھی۔انہوں نے مجھے یہ نہیں کہا تھا کہ یہ کتاب کسی اور کو نہ دکھانا۔وہ کتاب میرے پاس صرف ایک روز رہی تھی۔دیکھ کر واپس کر دی تھی۔پھر اس کے کئی ہفتے بعد وہ کتاب دوبارہ میں لایا تھا۔اور راستے میں پڑھتا جارہا تھا کہ سید عبد اللہ نے راستے میں مجھے سے وہ لے لی تھی۔چونکہ اس میں حضرت اقدس کی کتب کے حوالے تھے اور میں حضرت صاحب کی کتب کا مطالعہ کر رہا تھا اس لئے میں یہ دیکھنے کے لئے لایا تھا کہ اس میں کہاں تک صحیح حوالہ جات آئے ہیں۔میں عید ا دھوبی کو جانتا ہوں۔اس کے گھر میں ہی میں رہتا ہوں۔میں نے عیدا دھوبی کو بہائی مذہب کے مطابق نماز لکھ کر دی تھی لیکن میں نے خود وہ نماز یاد نہیں کی۔وہ بہائیوںکی نماز سے میں نے نماز لکھ کر دی تھی وہ کتاب جس میں نماز تھی وو ماسٹرنواب الدین صاحب س لی تھی۔اور ان کے ولایت جانے کے بعد میں نے عید ا کو لکھ کر دی۔میں نے اس میں سے یہ حصہ نقل کر لیا ہوا تھا۔وہ کتاب ماسٹر نواب الدین صاحب نے گئے تھے۔میں نے خود یاد کرنے کے لئے نقل کر لی تھی۔میں نے صالح علی کو ’’برہان الصریح ‘‘ نہیں دی۔” قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ‘‘ میں نے دیکھا ہے۔وہ مولوی علی صاحب کے نوٹ ہیں۔اس کتاب میں حضرت صاحب کی کتابوں کے حوالے خاص خاص مضامین پر جمع کئے گئے ہیں ” لوح محفوظ ‘‘بھی اس کا نام ہے اس کے چالیس باب ہیں۔فہرست باب الابواب پیش کردہ شیخ یعقوب علی صاحب اسی کتاب "لوح محفوظ‘‘ کی فہرست کی نقل ہے۔مجھے علم نہیں کہ میثاق کس بلا کا نام ہے۔میثاق بہاء کو میں جانتا ہوں۔پرچہ کاغذ جو شیخ یعقوب علی صاحب نے پیش کیا۔جس پر یہ لکھا ہوا ہے کہ’’ کون صاحب ہیں کیا کام ہے۔معاف فرمائیں میں نہ بول سکتا ہوں نہ باہر جا سکتا ہوں‘‘ یہ میرے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔اب \"قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ‘‘ میں نے سید عبداللہ کو دکھائی تھی۔مہر محمد خاں کو میں نے نہیں دکھائی۔وہ کتاب علمی صاحب سے لی تھی وہ کتاب لکھ رہے تھے۔اس میں بہت سے نوٹ حضرت صاحب کی کتابوں کے تھے۔اور مختلف نوٹ تھے اس لئے میں نے اس سے شوقیہ عرض کی کہ مجھے بھی مطالعہ کی اجازت دیجئے۔انہوں نے فرمایا۔اچھا دیکھ لیجئے۔میں وہ کتاب دیکھ رہا تھا کہ اتفاقیہ سید عبد اللہ بھی آگئے اور میں نے کتاب بند کرلی۔پھر ان کے اصرا ر ا و ر پر زُور اصرار