انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 30

۳۰ پر ان کو دکھانی پڑی۔کتاب عمدة التنقيح در دعوت مھدی و مسيح\" میرے پاس ہے۔وہ بہائی مذہب کی نہیں ہے۔وہ ایک احمد کی اور بابی کا مناظرہ ہے۔وہ میں نے ماسٹر علی محمد صاحب اظہر کو دی تھی۔یہ رقعہ اگزبٹ (Exhibit) نمبر۳ بنام محمد علی اظہر میرا ہی قلمی ہے۔اس رقعہ میں جس نوٹ کا ذکر ہے وہ میری اپنی نوٹ بک ہے۔میں وہ دے نہیں سکتا۔صرف دکھا سکتا ہوں۔میں نے محمد علی کو ہدایت دی تھی کہ یہ کتاب کسی کو دکھانا نہیں۔جلد واپس کر دینا غالباً یہ میں نے نہیں کہا تھا کہ یہ کتاب کسی کو دکھانا نہیں۔وہ کتاب میرے پاس عیدے دھوبی کے گھر جب میں کھانا کھا رہا تھا واپس آئی تھی۔فضل الدین کمہار سکنہ کیٹری افغاناں کو میں جانتا ہوں۔اس کے ساتھ بھی میں نے خودانہی مسائل کا ذکر کیا تھا۔وہ بہائی مذہب کے مسائل تھے۔مہرمحمد خاں صاحب اور مولوی علی صاحب میرے مکان پر غالباً رات کے وقت میرے پاس عیدے والے مکان میں آئے تھے۔جب کہ میں بائبل کا مطالعہ کر رہا تھا۔آٹھ ساڑھے آٹھ کا وقت تھا۔قریباً پندرہ منٹ تک وہ میرے پاس ٹھہرے۔مطالعہ و غیرہ کے متعلق ان سے گفتگو ہوتی رہی۔کہ کون کون سی کتاب کا مطالعہ ہو چکا ہے۔شاید مہر محمد خاں نے بھی گفتگو میں کچھ حصہ لیا ہو۔یاد نہیں صالح علی میرے پاس کئی دفعہ آیا تھا۔اس کے ساتھ میں نے مسیح موعود کے ابن فارس ہونے یا نہ ہونے کے متعلق کئی دفعہ گفتگو کی تھی۔اب مجھے یاد آگیا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کا ابن فارس ہونے کا دعوی ٰصرف الہام کی بناء پر ہے۔اور بہاء اللہ کا دعویٰ ابن فارس ہونے کاواقعات کی بناء پر ہے۔یہ بات میں نے کئی اشخاص کو کہی ہے۔ماسٹر محمد علی اظہر کے سوا اور کوئی یاد نہیں پڑتا۔فضل الدین سے بھی یہ ذکر میں نے کیا تھا۔عقیدے کے مکان پر تو یہ باتیں ہوتی رہتی ہیں۔میری نوٹ بک میں چار صد سے زائد حوالے ہیں۔میں نے سید عبداللہ سے کسی بیتالعدل کا کوئی ذکر نہیں کیا’’ کلمات مکنونہ " میں نے سید عبد اللہ سے لے کر دیکھی تھی۔اس نے غالبا ًمہرمحمد خاں سے لی تھی۔سید عبد اللہ نے مجھے یہ نہیں کہا۔پھر کہا کہ یاد پڑتا ہے کہ اس نے کہا تھا کہ ایسا معاملہ حضرت صاحب کے پاس پیش کر دو۔میں نے اس کو یہ جواب دیا تھا کہ اس طرح بات کھل جانے کا اندیشہ ہے۔اول ہمارے پاس بابی مذہب کا پو رالٹریچر ہو ، پھرنقدی ،پر یس اور مکان ہو، تا کہ ہم کسی کے دست نگر نہ رہیں۔اسی سلسلے میں شاید یہ بات بھی ہوئی تھی کہ ہمارا ایک پر یس علیگڑھ میں ہے۔اس جگہ بھی ہونا مفید ہے۔یاد نہیں کہ پریتم سنگھ کے پاس راولپنڈی میں جانے کے متعلق میں نے اس سے کوئی ذکر کیا تھا یا کہ نہیں۔غالباً یہ بات میں نے عبداللہ کو کہی