انوارالعلوم (جلد 8) — Page 23
۲۳ بھی نماز مکہ کی طرف منہ کر کے بھی پڑھتا ہوں۔جب مساجد میں پڑھتا ہوں تو مکہ کی طرف منہ کر کے پڑھتا ہوں زکوة کے متعلق مجھے معلوم نہیں فرض ہے یا نہیں۔میں نے ایک تصنیف کرنے کے واسطے نوٹ کئے ہیں۔ابھی تک اس کا نام میرے خیال میں نہیں میں وہ نوٹ دکھا سکتا ہوں وہ ایک رجسٹر تھا تین چار سال ہوئے اس پر لکھا تھا ’’قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ‘‘ مگر ضروری نہیں کہ یہ اس کا نام ہو، سوائے ماسٹراللہ دتہ کے وہ نوٹ میں نے اور کسی کو نہیں دکھائے۔میں نے جن علماء سے پہلے گفتگو کی انہوں نے کچھ توجہ نہ کی اس واسطے بعد میں ان سے گفتگو نہ کی۔اب میرا أراده تھا کہ حضرت صاحب کی خدمت میں اپنی معلومات پیش کروں۔مجھے ماسٹر نواب الدین سے کتاب الاقدس بعد جلسہ ملی اور اسی کے مطالعہ سے مجھ پر زیادہ اثر ہوا۔حشمت اللہ بہائی سے میں آگرہ میں ملتا تھا اور بطور محقق گفتگو کرتا تھا مگر اس وقت مجھ پر یہ اثر نہ تھا حشمت اللہ سے بعض دفعہ خط و کتابت رہتی ہے اس نے لکھا تھا کہ ایسی تجویز کرو کہ ان کے مضمون ہمارے اخباروں میں اور ہمارے ان کے اخباروں میں شائع ہوں۔راولپنڈی کے پریتم سنگھ سے میری کوئی خط و کتابت نہیں۔میں نے کوشش کر کے کسی کو بہائی مذہب کی کتب نہیں دیں۔لوگ خود لے جاتے ہیں۔مثلاً مہرمحمد خاں صاحب۔حکیم ابو طاہر صاحب مولوی ظل الرحمن صاحب نے کتاہیں لیں اور ماسٹر الله دتہ صاحب نے۔میں نے یہ ضرور کہا کہ مخفی رکھنا تاکہ کسی احمدی کو تکلیف نہ ہو۔سوال:- آپ نے ان عقائد کی کسی اور کو تلقین کی ؟ جواب:- لوگوں سے تذکرہ ہوتا رہا ہے۔اور اس سلسلہ میں انہیں مذکورہ بالا لوگوں سے جو کتابیں لے گئے تھے بہائی مذہب کے متعلق تذکرہ ہوتا رہا۔اور میں نے ان سے کہا کہ یہ مذہب بہائی سچا ہے۔میں نے ان سے تذکرہ کیا اور اپنا خیال ظاہر کیا اور اس نیت سے کیا کہ وہ بھی اس کو قبول کریں۔سوال میرمحمد اسحٰق صاحب میں آپ کا ہمسایہ ہوں مجھے کیوں تلقین نہ کی؟ جواب۔وہ لوگ ملاقات کے لئے آیا کرتے تھے ان سے گفتگو چھڑ گئی۔میں نے جن دوستوں سے تبلیغی گفتگو کی۔تذکرہ ہوا ان میں سے بعض کو میں نے ضرور کہا کہ ان کو مخفی رکھیں قبل اس کے کہ میں اس کو حضرت خلیفۃ المسیح کی خد مت میں کہوں اس کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بعض ضعیف القلب احمدیوں کو ممکن ہے کہ تکلیف ہو رات جو با تیں میں نے حکیم ابو طاہر سے کہیں وہ اسی رنگ میں تھیں کہ کسی اور پر ظاہر نہ ہوں۔میں نے