انوارالعلوم (جلد 8) — Page 540
۵۴۰ نامی بھی تھی۔جس طرح محمد(ﷺ) ایک ایک عورت کے سامنے کئے جاتے تھے اور رد کردیئے جاتے تھے اسی طرح وہ عورت ایک ایک گھر میں جاتی تھی اور رد کردی جاتی تھی چونکہ وہ غریب تھی اور کوئی شخص پسند نہ کرتا تھا کہ اس کا بچہ غریب کے گھر پرورش پا کر تکلیف اٹھائے۔یہ عورت مایوس ہوگئی تو اپنے ساتھ والوں کے طعنوں کے ڈر سے اس نے ارادہ کیا کہ وہ آپ کو ہی لے جائے چنانچہ وہ آپ کو ہی ساتھ لے گئی۔آپ ﷺ کی والدہ کی وفات جب آپ نے کچھ ہوش سنبھالی تو آپ کی دائی آپ کو آپ کی ماں کے پاس چھوڑ گئی وہ آپ کو اپنے ماں باپ کے گھر مدینہ لے گئیں اور وہاں کچھ عرصہ رہ کر جب مکہ کی طرف واپس آرہی تھیں تو راستہ میں ہی فوت ہو گئیں اور محمدﷺ چھ سال کی عمر میں اپنی ماں کی محبت بھری گود سے بھی محروم رہ گئے۔کسی نے آپ کو مکہ آپ کے دادا کے پاس پہنچا دیا جو دوسال کے بعد جب آپ آٹھ سال کے ہوۓ فوت ہو گئے اور آپ کو آپ کے چچاابو طالب نے اپنی کفالت میں لے لیا۔اس طرح یکے بعد دیگرے اپنے محبت کرنے والوں کی گود سے آپ جدا ہوتے رہے حتّٰی کہ آپ جوانی کو پہنچے۔غریب گھرانے میں پرورش جن گھروں میں اپنے پرورش پائی وہ امیر گھرنہ تھے وہاں میز بچھ کر کھانا نہیں ملتا تھا بلکہ مالی، حالی اور ملکی رواج کے ماتحت جس وقت کھانے کا وقت آتا بچے ماں کے گرد جمع ہو کر کھانے کے لئے شور مچا دیتے اور ہر ایک دوسرے سے زیادہ حصہ چھین لے جانے کی کوشش کرتا۔آپ کے چچا کی نوکر بیان کرتی ہے کہ آپؐ کی یہ عادت نہ تھی جس وقت گھر کے سب بچے چھینا جھپٹی میں مشغول ہوئے آپ ایک طرف خاموش ہو کر بیٹھ جاتے اور اس بات کی انتظار کرتے کہ چچی خود ان کو کھانا دے اور جو کچھ آپ کو دیا جا اسے خوش ہو کر کھا لیتے۔صادق اور امین جب آپ کی عمر بیس سال کی ہوئی تو آپ ایک ایسی سوسائٹی میں شامل ہوئے جس کا ہر ایک ممبر اس امر کی قسم کھاتا تھا کہ اگر کوئی مظلوم خواہ کسی قوم کا ہو اسے مدد کے لئے بلائے گا تو وہ اس کی مدد کرے گا یہاں تک کہ اس کا حق اس کومل جائے اور اس نوجوانی کی عمر میں آپ کا یہ مشغلہ تھا کہ جب کسی شخص کی نسبت معلوم ہوتا کہ اس کا حق کسی نے دبا لیا ہے تو آپ اس کی مدد کرتے یہاں تک کہ ظالم مظلوم کا حق واپس کردیتا۔آپ کی سچائی، امانت اور نیکی اِس عمر میں اس قدر مشہور ہوگئی کہ لوگ آپ کو صادق اور امین کہا