انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 531

۵۳۱ کہ یہ سکیم اپنی موجودہ حالت میں ہندوستان کی بیماری کا علاج نہیں ہے میرا یہ مطلب نہیں کہ اس سے زیادہ اختیارات ہندوستانیوں کو دینے چاہئیں جو یہ سکیم دیتی ہے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ جس طریق سے اختیار دیئے گئے ہیں وہ درست نہیں بلکہ ان سے فساد پیدا ہوتا ہے- جس وقت اس سکیم کو رائج کیا گیاہے اس وقت اس کے متعلق میری رائے بھی لی گئی تھی اور میں نے جو رائے اس وقت دی تھی گو اس وقت کے حالات کے ماتحت کہ حکام میں ایک تسلی کی روح پھیلی ہوئی تھی قبولیت کے قابل نہیں سمجھی گئی تھی۔مگر بعد کے واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ میری رائے درست تھی- ریفارم سکیم نے ایک یہ اصل قرار دیا ہے کہ ہندوستانی ایلیکٹڈ (Elected) ممبر کونسلوں میں زیادہ ہونے چاہئیں- میرے نزدیک یہ غلط اصل تھا اور ایجی ٹیشن کی بنیاد یہیں سے رکھی گئی ہے- میں نے اعتراض کیا تھا کہ ضرور ہے کہ مختلف موقعوں پر ہندوستانی ممبر گورنمنٹ کی رائے کے خلاف ہوں جب وہ خلاف ہوں گے اور گورنمنٹ کے مسودہ کو رد کردیں گے یا اس کی رائے کے خلاف کوئی مسودہ پاس کریں گے اور گورنمنٹ اس کو قبول نہ کرے گی تو یقیناً ملک کے لوگ ہندوستانی ممبروں کے ساتھ ہوں گے اور اسی سے ایجی ٹیشن پیدا ہوگا اور اگر اس ایجی ٹیشن کے ذریعہ گورنمنٹ اس کو قبول کرلے گی تو گویا وہ خود اس اصل کو باطل کر دے گی کہ ابھی کچھ عرصہ کے لئے ہندوستانی کامل سلف گورنمنٹ کے قابل نہیں ہیں- ویٹو صرف اس جگہ کام دیتا ہے جہاں یہ تسلیم کرلیا جاتاہے کہ گو دارالنواب حکومت کی قابلیت رکھتا ہے- لیکن کسی غیر معمولی موقع کے خیال سے ویٹو کا دروازہ کھلا رکھاجاتا ہے اور چونکہ وہ شاذونادر ہوتا ہے اس لئے اس پر ملک اس قدر برافروختہ نہیں ہوتا مگر جہاں اعلیٰ اتھاریٹز اس امر کو تسلیم کرتی ہیں کہ ابھی دارالنواب حکومت کے قابل نہیں وہاں اس کو اختیار دے کر ویٹو سے بد نتائج کو روکنے کی کوشش کرنا گویا خود فساد پیدا کرنا ہے- غرض ویٹو کا طریق اسی وقت بغیر فساد پیدا کرنے کے کام دے سکتا ہے جب کہ واضعانِ قوانین اس امر کو تسلیم کرلیتے ہیں کہ جن لوگوں کے خلاف اس کو استعمال کرنا ہے وہ فیصلہ کرنے کی پوری قابلیت رکھتے ہیں اور ان کے فیصلہ کے خلاف اس کو استعمال کرنے کا موقع یا توبالکل نہیں ملے گا یاشاذونادر کبھی ملے گا۔اسی طرح ایجی ٹیشن کا دروازہ بھی اسی وقت کھولا جاسکتا ہے جب کہ وہ حکام جن کے خلاف اس کو استعمال کیا جائے رائے عامہ کے ماتحت بدلے جاسکتے ہوں- اس وقت بے شک