انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 530

۵۳۰ موجودہ حالت میں سب سے بڑی تباہی ان حالات کو جب دیکھا جائے تو مجبوراً ماننا پڑتا ہے کہ ہندوستان کی اس خواہش کا کچھ علاج ضرور ہونا چاہیے ورنہ قیام امن مشکل ہوگا۔مگر میں جو حالات پہلے حصہ مضمون میں بتلا آیا ہوں وہ اس کے مخالف ہیں کہ ہندوستان کو موجودہ وقت میں سَوَراج ملے- جو قومیں اس وقت ایک دوسرے سے انصاف نہیں کرسکتیں اور ایک معمولی سے اشتعال پر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے لئے تیار ہوجاتی ہیں وہ اس وقت کیا کریں گی جب انگریز واپس جاویں اور ان کو کامل اختیارات حاصل ہوجائیں- میرے نزدیک ہندومسلمان بھی اپنے دلوں میں اس امر پر خوب سمجھتے ہیں لیکن ان میں سے کم سے کم اک حصہ اپنے دلوں مں اس امر پر خوش ہے کہ ہم طاقتور ہیں- انگریزوں کے باہر نکلتے ہی ہم حکومت پر قابض ہوجائیں گے- مسلمانوں کو اپنی طاقت اور ہمسایہ مسلمان حکومتوں پر گھمنڈ ہے- ہندوؤں کو اپنی تعداد اور بعض ہمسایہ بدھ حکومتوں پرگھمنڈ ہے- نہایت دبی آوازوں میں ہم گو رکھا اور سکھ سپاہی اور پٹھان سپاہی کی طاقت اور قابلیت کے موازنے سنتے ہیں اور میرے نزدیک ہندو قوم اب ایسی منظم ہوچکی ہے کہ مسلمانوں کے دعوے ایک ورثہ میں ملے ہوئے خیال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے- پس میرے نزدیک موجودہ حالات میں سب سے بڑی تباہی ہندوستان کے لئے یہی ہوسکتی ہے کہ انگریز اپنا قدم وہاں سے ہٹالیں- سلف گورنمنٹ اچھی چیز ہے مگر وہ سلف گورنمنٹ جو سلف ڈسٹرکشن کی طرف لے جائے ہرگز قابل پسند نہیں۔مگر ہمارا یہ فیصلہ کہ اس وقت کے سوشل حالات ہندوستان کو سلف گورنمنٹ دلانے کی تائید نہیں کرتے کافی نہیں ہوسکتا کیونکہ خواہش پیدا ہوچکی ہے اور عام بھی ہوچکی ہے اور اگر اس خواہش کو کسی طرح ٹھنڈا نہ کیا گیا تو اس سے مایوسی پیدا ہوگی۔اور اس کے نتیجہ میں پھر مایوسی کا نتیجہ یا ہلاکت نفس ہوتی ہے یا ہلاکت غیر- پس سلف گورنمنٹ دی جائے یا نہ دی جائے دونوں صورتوں میں ہلاکت ہندوستان کا منہ تک رہی ہے اور برٹش ایمپائر کے بہی خواہوں کا فرض ہے کہ وہ اس کا علاج سوچیں کیونکہ ہندوستان کی ہلاکت میں ایمپائر کی ہلاکت ہے اور برٹش ایمپائر کے بدخواہ ابھی سے اس پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ریفارم سکیم بعض لوگ کہتے ہیں کہ مانٹیگو چیمسفورڈ ریفارم سکیم ۴۶؎ اس کا علاج ہے- میرے نزدیک جن اصول پر اس رپورٹ کی بنیاد ہے اور جس نیت سے یہ تیار کی گئی ہے وہ قابل تعریف ہے۔مگر میرے نزدیک اس سکیم میں بعض اصولی غلطیاں ایسی رہ گئیں