انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 489

۴۸۹ دوره یو رپ اقوام پر سے اپنا اثر کھو چکی ہے۔۳۔یورپ میں صداقت مذہب کے لئے بہت بڑی تلاش ہے۔یہ قابل افسوس ہے کہ عیسائیت جیسا کہ اب سکھائی جاتی ہے قابلِ عمل درآمد نہیں کیونکہ اس کی تعلیمات انسان کو اپیل نہیں کر سکتیں اور اس لئے وہ اس کی عملی زندگی میں رونما نہیں ہو سکتیں ہی یہ بائیبل انسانی زندگی کے لئے مکمل ضابطہ پیش نہیں کرتی جو کہ اسلام کی خاص خوبصورتی ہے۔۴- کچھ شک نہیں حضرت اقدس اس امر سے واقف ہیں کہ تمام مغرب میں موجودہ عیسائیت سے تنفّروبغاوت کے آثار نمایاں ہیں۔مثلا ًروس ایک زمانہ میں آرتھوڈکس عیسائی ملک تھا اور ہمیشہ مسلمان ممالک سے خالصتہً مذ ہبی اغراض کے لئے نہ کہ ملکی اغراض کی خاطر لڑتا رہا۔اس نے اب کھلم کھلا ظاہر کر دیا ہے کہ عیسویت طبعی زندگی کی تمام ضروریات کی ارتقائی طریق پر تسلّی نہیں کر سکتی۔یہی وجہ ہے کہ کمیونزم نے مضبوط جگہ حاصل کرلی ہے۔یہ حالت صرف روس میں ہی نہیں ہے بلکہ دوسرے ممالک جرمنی، فرانس، اٹلی کی بھی یہی حالت ہے بلکہ خود انگلستان کا بھی یہی حال ہے جہاں ایسی ہی تحریک پاؤں جمارہی ہے۔یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ مہذّب مغرب اسلامی تعلیمات کی روحِ سادگی کو لے کر ان پر عمل کر رہا ہے اگرچہ اسے یہ معلوم نہیں کہ یہ اسلامی تعلیمات ہیں۔۵۔اب وقت آگیا ہے جب کہ اسلام اپنی اصفیٰ اور اجلیٰ صورت میں مغرب کے سامنے پیش کیا جائے گا۔بد قسمتی سے اسلام کو بعض پچھلے خود غرض اور متعصّب لوگوں نے اپنی اغراض کے لئے غلط رنگ میں رنگین کیا ہے۔مگر جہاں تک موجو و یورپ کا سوال ہے اس کے باشندے ارتقاء پسند اور تعلیم یافتہ ہیں۔ہم کو ہر طرح یقین ہے کہ اگر اسلام ان کے سامنے اصلی صورت میں پیش کیا جائے (جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے پیش کیا ہے) تو انہیں اس کے قبول کرنے میں کوئی تامل نہ ہو گا ہم بہت جلد مغرب کو ہمدردانہ مذہب کا مطالعہ کرتے پائیں گے۔۶۔ہم حضرت پر اس امر کا اظہار ضروری سمجھتے ہیں کہ جہاں تک ہمارا اس ملک میں تجربہ ہے اس ملک کے لوگ مذہب کے متعلق تفصیلی مضامین پر بہت کم دلچسپی لیتے ہیں اور اس کے مختلف فرقوں کے متعلق تو بہت ہی کم، اس لئے ہم صدق دل سے التماس کرتے ہیں کہ جناب آنے والی مذہبی کانفرنس میں اسلام کو اس کی پاکیزہ صورت و مفہوم میں پیش کریں گے۔