انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 419

۴۱۹ دوره یو رپ کیسا اندوہناک تھا ،کیسا حیرت خیز تھاوہ دل جو اس محبت سے ناآشنا ہے جو مجھے احمدی جماعت سے ہے اور وہ دل جو اس محبت سے نا آشنا ہے جو احمدی جماعت کو مجھ سے ہے وہ اس حالت کا اندازہ نہیں کر سکتا۔اور کون ہے جو اس درد سے آشنا ہو جس میں ہم شریک ہیں کہ وہ اس کیفیت کو سمجھ سکے۔لوگ کہیں گے کہ جدائی روز ہوتی ہے اور علیحدگی زمانے کے خواص میں سے ہے۔مگر کون اندھے کو سورج دکھائے اور بہرے کو آواز کی دلکشی سے آگاہ کرے۔اس نے کب لِلہ اور فی اللہ محبت کا مزہ چکھا کہ وہ اس لطف اور درد کو محسوس کرے۔اس نے کب اس پیالہ کو پیا کہ وہ اس کی مست کر دینے والی کیفیت سے آگاہ ہو۔دُنیا میں لیڈر بھی ہیں اور ان کے پیروبھی ،عاشق بھی ہیں اور ان کے معشوق بھی، محب بھی ہیں اور ان کے محبوب بھی مگر ہرےکُلے را رنگ و بُوئے دیگر است کب ان کو اُس ہاتھ نے تاگے میں پرویا جس نے ہمیں پرویا۔آہ! نادان کیا جانیں کہ خدا کے پروئے ہوؤں اور بندوں کے پروئے ہوؤں میں فرق ہوتے ہیں۔بندہ لاکھ پروئے پھر بھی سب موتی جداکے جدا رہتے ہیں مگر خداکے پرؤئے ہوئے موتی کبھی جدا نہیں ہوتے۔وہ اس دنیا میں بھی اکٹھے رہتے ہیں اور اگلے جہان میں بھی اکٹھے ہی رکھے جاتے ہیں۔پھران کے دلوں کے اتّصال اور ان کے قلوب کی یگانگت پر کسی اور جماعت اور تعلق کا قیاس کرنا نادانی نہیں تو اور کیا ہے۔غرض کہ اس سفرنے اس پوشیده محبت کو جواحمدی جماعت کو مجھ سے تھی اور جو مجھے ان سے تھی نکال کر باہر کر دیا اور ہمارے چُھپے ہوۓ راز ظاہر ہو گئے۔اور ان کا ظاہر ہونے کا حق بھی تھا۔نہاں کے ماند آں رازے کزوسازند محفلہا اے عزیزو! آپ سے دور ہوں ،جسم دور ہے مگر روح نہیں۔میرا جسم کاذرّہ ذرّہ اور میری روح کی ہر طاقت تمہارے لیے دعامیں مشغول ہے اور سوتے جاگتے میرادل تمہاری بھلائی کی فکر میں ہے۔میں اپنے مقصد کے متعلق جہاز میں ہی ایک حصہ کا فیصلہ کر چکا ہوں اور اپنے وقت پر اس کو ظاہر کروں گا۔مگر میں آپ کو یقین دلانا چاہتاہوں کہ مجھے جس قدر ہندوستان میں یقین تھا کہ اگر اسلام پھیل سکتا ہے تو آپ لوگوں کے ذریعہ سے۔اب اس سے بہت زیادہ یقین ہے۔آہ !تم ہی وہ خدا کا عرش ہو جس پر سے خداتعالی حکومت کر رہا ہے۔تم کو خدا نے نور دیا ہے جبکہ دنیا اندھیروں میں ہے ،تم کو خدا نے ہمت دی ہے جبکہ دنیا مایوسیوں کا شکار ہورہی ہے، تم کو خداتعالی نے برکت دی ہے جبکہ دنیا اس کے غضب کو اپنے پر نازل کرتی ہے۔اور کیوں نہ ہو تم خدا کی