انوارالعلوم (جلد 8) — Page 418
۴۱۸ دوره یو رپ کا موقع ملے گا۔اسی لئے میں ان دوستوں کی نصیحت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اور ان کاشکریہ ادا کرتے ہوئے یہی کہتا ہوں کہ خط نصف ملاقات ہوتی ہے۔میں خدا کی مشیّت کے ماتحت اپنے دوستوں کی پوری ملاقات سے تو ایک وقت تک محروم ہوں پس مجھے آدھی ملاقات کا تو لطف اُٹھانے دو۔مجھے چھوڑو کہ میں خیالات و افکار کےپَر لگا کر کاغذ کی ناؤ پر سوار ہو کر اس مقدس سرزمین میں پہنچوں جس سے میرا جسم بنا ہے اور جس میں میرا ہادی اور رہنما مد فون ہے۔اور جہاں میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی راحت دوستوں کی جماعت رہتی ہے۔ہاں پیشتر اس کے کہ ہندوستان کی ڈاک کا وقت نکل جائے، مجھے اپنے دوستوں کے نام ایک خط لکھنے دو تا میری آدھی ملاقات سے وہ مسرور ہوں اور میرے خیالات تھوڑی دیر کے لیے خالص اسی سرزمین کی طرف پرواز کر کے مجھے دیارِ محبوب سے قریب کردیں۔لوگوں کو آرام کرنے دو، کھیلنے دو ،شراب پینے دو، میری کھیل اپنے آقا کی خدمت ہے اور میری شراب اپنے مالک کی محبت ہے اور میرا آرام اپنے دوستوں کا قرب ہے، خواہ خیال سے ہی کیوں نہ ہو۔کہتے ہیں کہ کسی چیز کی قدر اس کے کھو ئے جانے سے ہی ہوتی ہے میں نے اس سفر میں یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔وہ دوست جو پہلے اس خیال کے اثر کے نیچے کہ اِدھر میں ولایت گیا اور اُدھر یورپ فتح ہوا، اصرار کر رہے تھے کہ ضرور میں خود ولایت جاؤں اور اس فتح کے دن کو ان کے قریب کردوں۔جس دن کہ میں روانہ ہو رہا تھا ،ماہی بے آب کی طرح بے تاب ہورہے تھے اور کئی افسوس کررہے تھے کہ ہم نے جانے کا مشورہ کیوں دیا۔میں بھی جس نے باوجود اس امر کے علم کے کہ موسم سخت ہے اور طوفان کے دن ہیں ارادہ کرلیا تھا کہ اس موقع پر ضرور مغرب کا سفر کروں اور اسلام کی اشاعت کی سکیم تجویز کروں، دل میں محسوس کرتا تھا کہ جدائی کا ارادہ کرلینا تو آسان ہے مگر جدا ہونا خواہ چند دن کے لیے ہی ہو سخت مشکل ہے۔آہ ! وہ اپنے دوستوں سے رخصت ہونا ،ان دوستوں سے جن سے مل کر میں نے عہد کیا تھا کہ اسلام کی عظمت کو دنیا میں قائم کروں گا اور خدا تعالی کے نام کو روشن کروں گا۔ہاں ان دوستوں سے جن کے دل میرے دل سے اور جن کی روحیں میری روح سے اور جن کی خواہشات میری خواہشات سے اور جن کے ارادے میرے ارادوں سے بالکل متحد ہوگئے تھے حتیّٰ کہ اس شعر کا مضمون ہم پر صادق آتا تھا کہ من تُو شدم تُو من شدی من تن شدم تُو جاں شدی عکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تُو دیگری