انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 306

۳۰۶ دوسرے لوگوں کے حقوق تلف ہو جائیں۔لیکن چونکہ ہو سکتا تھا کہ بعض لوگ باوجود اسلام کے اس حکم کے کہ روپیہ جمع نہ کیا کریں بلکہ اس کو خرچ کریں یا کام میں لگائیں روپیہ جمع کرتے رہیں اور چونکہ خالی اس حکم سے لوگوں کے وہ حقوق جو تمام اموال میں اسلام تسلیم کرتا ہے پوری طرح ادا نہیں ہو سکتے تھے اس لئے اسلام نے حکم دیا ہے کہ جس قدر جائیداد کسی انسان کے پاس سونے چاندی کے سکّے یا أموال تجارت کی قسم سے ہو اور اس پر ایک سال گزر چکا ہو اس پر حکومت اس سے اڑھائی فیصدی ٹیکس سالانہ لیا کرے جو ملک کے غرباء اور محتاجوں پر خرچ کیا جائے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے جو الفاظ اس صدقہ کی غرض کے متعلق استعمال فرمائے ہیں ان میں آپ صاف طور پر ظاہر فرماتے ہیں کہ یہ مال اس غرض سے امراء سے لیا جاتا ہے کہ ان کے اموال میں غرباء کا حصہ شامل تھا۔آپ فرماتے ہیں ان الله افترض عليهم صدقة في أموالهم توخذ من اغنيائهم وترد على فقرائهم ۲۱۔اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غرباء کی طرف لوٹائی جائے گی۔”لوٹائی جائے گی “ کے الفاظ صاف طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ اس ٹیکس کو غرباء کاحق سمجھا گیا ہے اور یہ قرار دیا گیا ہے کہ امراء کی دولت میں غرباء کے حقوق اور ان کی محنت بھی شامل ہے مگر چونکہ ان کے حقوق کا معین اندازه مشکل تھا اس لئے ایک قاعدہ مقرر کردیا کہ جس کے مطابق ان سے زکوۃ لے لی جایا کرے۔یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ٹیکس جسے زکوة کہتے ہیں آمدن پر نہیں ہے بلکہ سرمایہ اور نفع سب کو ملا کر اس پر لگایا جاتا ہے اور اس طرح اڑھائی فیصد در حقیقت بعض دفعہ نفع کا پچاس فیصدی بن جاتا ہے اس حکم کی موجودگی میں کوئی شخص مال کو بے وجہ جمع نہیں رکھ سکتا کیونکہ اس صورت میں اس کا مال تھوڑے ہی عرصہ میں ٹیکس کی ادائیگی میں ہی خرچ ہو جائے گا۔قرآن کریم میں بھی اس امر کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ زکوة کی غرض در حقیقت امراء کے مالوں کو پاک کرتا ہے یعنی ان کے مالوں میں جو ملک کے دوسرے لوگوں کی محنت اور ان کے حقوق کا ایک حصہ شامل ہوگیا ہے اس کو ادا کر کے خالص ان کا حق علیحد ہ کردینے کے لئے یہ ٹیکس لگایا جاتا ہے۔چنانچہ الله تعالی فرماتا ہے خذ من اموالهم صدقة تطھرھم و تزکیھم \"۔لوگوں کے مالوں سے صدقہ لے اور اس طرح ان کو پاک کر یعنی ان کے مال اس ذریعہ سے ہر قسم کی ملونی سے پاک ہو جائیں گے اور دوسروں کے حق ان سے الگ ہو جائیں گے پھر فرماتا ہے چاہئے