انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 305

۳۰۵ انسان شریک ہیں اور اس وجہ سے دنیا میں حقیقی ملکیت کوئی نہیں۔زید کے پاس جو کچھ ہے وہ اسکی ملکیت ان معنوں میں نہیں کہ دوسروں کا اس میں بالکل حصہ ہی کوئی نہیں بلکہ اس کی ملکیت وه اس وجہ سے کہلاتی ہے کہ اس کا حصہ دو سروں کی نسبت زیادہ ہو گیا ہے کیونکہ اس نے محنت کر کے اس کو حاصل کیا ہے ورنہ اس میں اور لوگوں کے حصے بھی شامل ہیں چنانچہ اسلام امراء کے مال میں غرباء کا حق قرار دیا ہے في أموالهم حق السائل والمحروم امراء کے مال میں ان کا جو بول سکتے ہیں یعنی انسانوں کا بلکہ ان حیوانوں کا بھی جو نہیں بول سکتے بطور حق کے حصہ ہے۔اسی طرح فرماتا ہے قریبیوں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو ان کے حق د و ؎۲۵۸ پس وہ حکم دیتا ہے کہ روپیہ کو بند رکھنا درست نہیں کیونکہ اس طرح لوگ اپنے حق سے محروم رہ جاتے اور وہ مجبور کرتا ہے کہ لوگ روپیہ کو یا خرچ کریں یا کام پر لگائیں کیونکہ دونوں صورتوں میں لوگ اس روپیہ سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔اگر وہ خرچ کرے گا تو بھی روپیہ چکر کھانے لگے گا اور لوگوں کو فائدہ ہو گا اور اگر کسی کام پر لگائے گا تو بھی کچھ لوگ بطور ملازمت کے فائدہ اٹھائیں گئے اور کچھ وہ لوگ جن سے لین دین ہوا فائدہ اٹھائیں گے۔اگر کوئی شخص ایسا نہ کرے تو اس کے حق میں فرماتا ہے ان الله لا يحب من كان مختا لا؟ فخورا الذين يبخلون ويامرون الناس بالبخل ويكتمون مااتهم الله من فضله وأعتدنا للكفرين عذابا مھينا ۲۵۹۔اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا متکبروں اور اترانے والے لوگوں کو جو روپیہ بند کر کے رکھ چھوڑتے ہیں اور لوگوں کو بھی کہتے ہیں کہ تم بھی ایسا ہی کرو اور جو کچھ خدا نے اپنے فضل میں سے دیا ہے اس کو چھپا چھوڑتے ہیں ان کو ایسا نہیں چاہئے۔اگر یہ اس نصیحت کو قبول نہ کریں گے تو ان کو رسوا کرنے والا عذاب آئے گا۔لیکن اگر وہ اس طرح اپنے اموال کو چھپاتے اور جمع کرتے چلے جائیں گے تو ان کی قوم ذلیل ہو جائے گی اور وہ بھی ساتھ ہی ذلیل ہوں گے۔اب دوسری صورت جو اموال کے خرچ کرنے کی ہے اس میں یہ نقص ہو سکتا تھا کہ لوگ اپنی جانوں پر سب روپیہ خرچ کر دیں اور اسراف سے کام لیں۔اس کا علاج اسلام نے یہ کیا ہے کہ ہر خم کی عیاشیوں کو روک دیا ہے۔اسلام کھانے میں اسراف کو، پہننے میں اسراف کو، مکان بنانے میں اسراف کو، غرض کہ ہر چیز میں اسراف کو منع کرتا ہے۔اس وجہ سے ایک مسلمان جو اسلام کے احکام پر عمل کرتا ہے اپنی ذات پر اس قدر روپیہ خرچ ہی نہیں کر سکتا کہ جس سے