انوارالعلوم (جلد 8) — Page 299
۲۹۹ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (الجمعة:3) احکام ضروریہ اور ان کی حکمت کا سکھانا اس رسول کا کام ہے۔کتاب سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ صرف قرآن کریم مراد ہے کیونکہ قرآن کریم میں علم ہیٔت، علم نباتات، علم تاریخ، علم الاخلاق، علم طب، علم حیوانات وغیرہ کا ذکر ہے اور ان کی طرف توجہ دلائی ہے پس کتاب کےسکھانے میں ان علوم کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ہر مسلمان پر علم پڑھنا فرض ہے او ر آپؐ ہمیشہ اس امر کا خیال رکھتے تھے۔بدر میں جو پڑھے لکھے لوگ قید ہوئے آپؐ نے ان سے معاہدہ کیا کہ بجائے روپیہ دے کر آزاد ہونے کے وہ مسلمان بچوں کو پڑھائیں۔ایک فرض حکومت اسلام کایہ ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کرے جو پیشہ تو جانتے ہیں لیکن ان کے پاس کام کرنے کو روپیہ نہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اسلامی بیت المال میں سے ایک حصہ ایسے لوگوں کے لئے مقرر کیا ہوا ہے۔ایک فرض یہ ہے کہ وہ اندرونی امن کو قائم رکھے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اسلامی حکومت کا فرض مقرر کرتا ہے کہ وہ امن کو قائم رکھے اور سخت مذمت ان لوگوں کو بیان کرتا ہے جو لوگ فساد کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ ایسے حاکم جن کی غفلت یا ظلم سے فساد پھیلتا ہے خدا تعالیٰ کے حضور میں سخت مجرم ہیں رسول کریم ﷺ نے اسلامی حکومت کا یہ نقشہ کھینچا ہے کہ ایک عورت اکیلی سینکڑوں میل کا سفر کرتی چلی جائے اور اس کو کسی قسم کا خطرہ نہ ہو۔ایک فرض اس کا یہ مقرر کیا گیا ہے کہ وہ ملک کی خوراک کا انتظام رکھے ابتدائی خلفاء کے زمانہ میں اس امر کا خاص خیال رکھا جاتا تھا اور خلفاء خود خوراک کے جمع رکھنے کا تعہد کرتے تھے اور جب غلہ کی کمی ہوتی تھی تو ہر شخص کے لئے پرچی جاری کرتے تھے جس کے ذریعہ سے وہ سرکاری سٹوروں میں سے غلہ خرید سکے تا ایسا نہ ہو کہ بعض لوگ زیادہ غلہ جمع کر لیں اور باقی محروم رہیں۔۳۰۰