انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 300

۳۰۰ ایک فرض یہ مقرر کیا ہے کہ راستوں کی درستی کا خیال رکھیں تاکہ سفروں اور ادھر سے اُدھر جانے میں آسانی ہو چنانچہ ابتدائی زمانہ اسلام میں جبکہ گاڑیاں نہیں تھیں صرف پیدل چلتے تھے یہ حکم تھا کہ راستے کم سے کم بیس فٹ چوڑے بنائے جائیں مگر یہ ایک اصول بتایا گیا ہے کہ راستے چوڑے رکھوانے چاہئیں اس زمانہ میں چونکہ گاڑیاں اور موٹریں بکثرت چلتی ہیں اس لئے آج کل اسی نسبت سے راستوں کو زیادہ چوڑا رکھوانا ضروری ہو گا۔ایک یہ فرض مقرر کیا ہے کہ بادشاہ ملک کے اخلاق کی نگرانی رکھے اور تعلیم و تربیت کے ذریعہ سے ملک کی اخلاقی حالت کو اچھا کرتا رہے اور خراب نہ ہونے دے۔بالآخر ایک یہ فرض اسلام نے حکومت کا رکھا ہے کہ يُزَكِّيهِمْلوگوں کو بلند کرے اونچا کرے یعنی ان کی ہر قسم کی ترقی کو مدنظر رکھے اس عام حکم میں تمام زمانوں کی ضرورتوں کو شامل کر لیا ہے جو علوم جدیدہ بھی معلوم ہوں ان کو ملک میں رائج کرنا اور تحقیق و تجسس کی طرف لوگوں کو مائل کرنا جو تمدنی سوالات نئے پیدا ہوں ان کو شریعت کے دائرہ کے اندر حل کرنا یہ اسلامی حکومت کا فرض ہے۔" رعایا کے فرائض حکومت کے ان فرض کے مقابلہ کی رعایا کے بھی اسلام نے فرائض مقرر کئے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ رعایا کے لوگ اپنی حکومت کے خیر خواہ رہیں، اس سے تعاون کریں اور اس کے احکام کی پوری طرح فرمانبرداری کریں خواہ وہ ان کے منشاء کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔مگر شریعت نے اسلامی حاکم کو سیاستاً کو ایک فوقیت دی ہے بحیثیت انسان اس کو کوئی علیحدہ رتبہ نہیں دیا۔اس کو یہ حق ہے کہ ملک کی بہتری کے لئے بعد مشورہ کے احکام جاری ہے مگر اس کا یہ حق نہیں کہ ذاتی طور پر لوگوں پر حکومت کرے بلکہ اگر ذاتی معاملات میں خلیفہ اور کسی شخص کا جھگڑا ہو جائے مثلاً کسی مالی معاملہ میں اختلاف ہو جائے تو اسے اسی طرح عدالت سے اپنا فیصلہ کرانا ہو گا جس طرح دوسرے لوگ فیصلہ کراتے ہیں اور اس کو کوئی خاص رعائت حاصل نہ ہوگی۔حضرت عمر ؓخلیفہ ثانی کا ایک دفعہ ایک جھگڑا ابی بن کعبؓ سے ہو گیا تھا۔قاضی کے پاس معاملہ پیش ہوا۔انہوں نے حضرت عمر ؓکو بلوایا اور آپ ؓکے آنے پر اپنی جگہ ادب سے چھوڑی۔حضرت عمرؓ فریق مخالف کے پاس جا بیٹھے اور قاضی سے فرمایا کہ یہ پہلی بے انصافی ہے جو آپ نے کی ہے اس وقت مجھ میں اور میرے فریق مخالف میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے تھا۔۲۴ مگریہ دعادی انہی امور کے متعلق چل سکتے ہیں جو خلافت کے کام سے علیحدہ ہوں۔آقا اور ملازمین کے تعلقات اسلام سے پہلے آقا اور ملازم کی حیثیت ایک بادشاہ اور رعایا کی حیثیت ہی سمجھی جاتی تھی اور اس وقت بھی باوجود خیال کے بدل جانے کے عملاً یہی نظارہ ہمیں نظر آتا ہے مگر اسلام اس کا علاج ہمیں بتاتا ہے۔وہ یہ اصول قائم کرتا ہے کہ ایک آقا جس طرح روپیہ دیتا ہے اسی طرح ایک نوکر اپنا وقت اور اپنی