انوارالعلوم (جلد 8) — Page 284
شروع ہوئی ہے۔اگر اس علم پر لوگ عمل کریں تو نہ قرنطینہ کے قیام کی ضرورت رہتی نہ سرکاری گرانیوں کی۔خود بخودہی وبائیں دب سکتی ہیں۔مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ جس وقت وہ اپنے ہمسایہ کو مصیبت میں اور مشکل میں دیکھے اور اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے مال سے اسے بقدر ضرورت قرض دے اور اس وقت جبکہ وہ مصیبت میں مبتلاء ہے اس سے یہ حساب نہ کرنے بیٹھے کہ مجھے اس کے بدلہ میں کیا دے گا کیونکہ اس کے اخلاق وسیع اور اس کا حوصلہ بلند ہونا چاہئے۔اسے تکلیف اور دکھ کے اوقات میں لوگوں کا مدد گار ہونا چاہئے اور اپنے بہائیوں کی مدد سے اپنا فرض سمجھنا چاہئے۔اسے محنت سے اپنی روزی کھانی چاہئے نہ کہ مرز روپے قرض دے کر اور لوگوں کو ان کی تکلیف کے وقت اپنے قبضہ میں لا کر یا اسراف کی عادت پیدا کر کے۔مسلم شہری کا ایک یہ بھی فرض ہے کہ وہ قومی اور ملکی فرائض کے لئے قربانی کرنے کے لئے کی تیار رہے اور اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے۔کیونکہ رسول کریم ا نے فرمایا ہے کہ من قتل دون ما له فهو شهيد ۲۴۹۔جو جو شخص اپنے مال کی حفاظت کے لئے مارا جاتا ہے وہ خدا کے حضور میں مقبول ہے اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ تم لوگ کیوں لڑنے سے انکار کرتے ہو حالانکہ تمہارے بہائی اور بہنیں دوسرے لوگوں کے ظلم کے نچے دبے ہوئے ہیں۔*۲۳۰ مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ کسی کو ہلاک ہو نا دیکھے تو اس کو بچائے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو کیا گیا ہے کہ اس پر سخت عذاب اور خدا تعالی کی بار انستگی نازل ہوئی۔رسول کریم نے فرمایا کہ جو شخص کسی کو قتل ہو ا ہوا دیکھتا ہے اور خاموش کھڑا رہتا ہے او راس کے بچانے کے لئے کوشش نہیں کر اور خدا کی لعنت کے نیچے ہے۔* ۲۳۰۷۔پس ڈوپٹوں کو بچانا الوں کو بجھا دونوں کانوں کے پٹے مکانوں کے گرنے‘ ریلیوں کے کرانے اور بجلیوں کے گرنے کے وقت لوگوں کی مدد کرنی اور ہر ایک مصیبت میں جس میں اس کی مد و لوگوں کی جان بچا سکتی ہے ان کی جان کو بچانا ایک مسلم کا فرض ہے اور نہ وہ خدا کے حضور میں جوابدہ ہو گا اور وہ خدا کے فضل کو بھی حاصل نہیں کرے گا۔اسی طرح ایک مسلم شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنے بہائی کی طرف نسی کے ساتھ بھی ہتھیار کا منہ نہ کرے۔یہ حکم رسول کریم ا نے لوہے کے ہتھیاروں کے متعلق دیا ہے ۲۳۔پس ۴۳۰