انوارالعلوم (جلد 8) — Page 285
بارود سے چلنے والے ہتھیاروں کے متعلق تو اور بھی اسے یہ علم چسپاں ہوتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس حکم پر عمل نہ کرنے کے سبب سے سینکڑوں آدمیوں کی محض غلطی سے جا نہیں جاتی رہتی ہیں۔پھر مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ کبھی مت نہ ہارے اور مایوس نہ ہو بلکہ مصائب اور تالیف میں ایک پہاڑ کی طرح کھڑا رہے۔وارث کی آند حمیاں چلیں اور آفات کی موجیں اٹھ اٹھ کر اس سے کرائیں مگر وہ مقابلہ سے نہ گھبرائے بلکہ ان کو دبانے کی کوشش کرے۔یہاں تک کہ یا تو اسے موت آجائے یا روان مشکلات کو ڑے کر کے اپنے لئے کامیابی کا راستہ کھول لے۔به پزولی سے اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لئے خود کشی نہیں کرتا کیونکہ اس کا نہ ہب اسے اس بزدلی سے روکتا ہے اور نڈر اور بہار رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔یہ ہے ایک مسلم شہری۔مگر اس وقت میری مراد مسلم شہری سے وہ مسلم نہیں جو اپنے مذہب کو بھول کر مغرب کی طرف ایک اے کی طرح دیکھ رہا ہے بلکہ اس مسلم سے میری مراد وہ مسلم ہے جو آج سے تیرہ سو سال پہلے کا تھا اور جسے اب پھر مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں لائے ہیں۔یتامیٰ کے متعلق احکام عام مسلم شری کے فرائض کی چند مثالیں بیان کرنے کے بعد اب میں وہ احکام بیان کرتا ہوں جو تمدن کا ایک زبردست جزو ہیں لیکن عام طور پر لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے میری مراد ان احکام سے ان کے حقوق ہیں۔کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی جس کے بانی کا پورا انتظام نہ ہو۔اسلام نے اس شاخ تمدن کے احکام کو بھی نہایت عمدگی سے بیان کیا ہے۔یتامیٰ کے لئے حکم ہے کہ انکا کوئی گارڈین مقرر کیا جائے جو قریبوں کی موجودگی میں سب سے قریبی رشتہ دار ہونا چاہئے ان کے اموال کو بالکل محفوظ رکھا جائے۔جو گارڈین مقرر ہو اگر غریب ہو تو بقدرات اسے کچھ معاوضہ دیا جائے اگر امیر ہو تو مفت کام کرے۔تیموں کو جاہل نہیں رکھنا چاہئے بلکہ جو پیشہ ان کے مناسب حال ہو ان کا آبہائی پیشہ یا جس کی طرف ان کو خاص رغبت ہو ان کو سکھایا جائے۔ان کے اخلاق کا خاص طور پر خیال رکھا جائے نہ تو اس قدر آزاد رکھا جائے کہ ان کے اخلاق اڑ جائیں اور نہ اس قدر سختی کی جائے کہ ان کے علی توکی بالکل دب جائیں اور ترقی کرنے کاباره ی بالکل جاتا رہے۔ان سے معاملہ کرتے ہوئے محبت اور پیار کے پلو کو خاص طور پر مد نظر رکھا جائے کیونکہ ان کے دل نرم ہوتے ہیں اور وہ اس نعمت سے جو سب سے زیادہ