انوارالعلوم (جلد 8) — Page 277
۲۷۷ لڑکی پیدا ہو اور وہ اس کی اچھی طرح تربیت کرے تو اسکا یہ کام اس کو آگ سے بچانے والا ہو گا۔یعنی لڑکیوں کی اچھی طرح تربیت کرنی اور ان سے حسن سلوک کے سبب سے اللہ تعالیٰ اس سے اچھا معاملہ کرے گا۔اسی طرح آپؐ نےفرمایا جس شخص کے ہاں لڑکے ہوں یا لڑکیاں ہوں یا اس کے ذمے بہائیوں یا بہنوں کی پرورش ہو اور وہ ان کو علم سکھائے اور اچھی طرح ان کی ضروریات زندگی کا انتظام کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس شخص کو جنت دے گا۔یعنی وہ اس کام کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے مزید فضل کو جذب کرے گا نہ یہ کہ خواہ اور کوئی بدی کرے اس کا اثر اس کی روحانیت پر کوئی نہ ہو گا۔اسی طرح فرمایا جس کے گھر لڑکی ہو اور وہ نہ اسے قتل کرے نہ اسے ذلیل کر کے رکھے نہ لڑکوں کو اس پر فضیلت دے تو خدا تعالیٰ اسے جنت دے گا۔اولاد کی صحت کاخیال رکھنے کا خاص حکم دیا ہے رسول کرم ﷺ فرماتے ہیں اے لوگو! اپنے بچوں کو مخفی طور پر قتل کرو کیونکہ مرد کا عورت سے ایام رضاعت میں ملنا جوانی میں جا کر بچے کے قویٰ کو نقصان دیتا ہے یعنی ان دنوں میں اس کا اثر خاص طور پر ظاہر ہوتا ہے۔اس ارشاد سے ایک عام قانون بچہ کی صحت کے خیال کا نکلتا ہے کیونکہ اس غرض کے لئے اگر شہوات طبعیہ کو روکنا پسند کیا گیا ہے تو دوسری قربانیاں تو اس سے ادنیٰ ہی ہیں۔اہلی زندگی میں ایک سوال ورثہ کا ہے اس میں اسلام نے ایسی مکمل تعلیم دی ہے کہ تمام غیر متعصب لوگ خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں اس کی خوبی اور اس کی حکمت کو تسلیم کرتے ہیں۔اول تو اسلام نے ورثہ کے معاملہ میں عورتوں کو بھی حصہ دار مقرر کیا ہے دوسرے والدین کو حصہ دار مقرر کیا ہے سوم خاوند اور بیوی کو حصہ دار مقرر کیا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ رشتہ دار عقلاً ضرور وارث ہونے چاہئیں۔علاوہ مذکورہ بالا ہدایتوں کے شریعت اسلام حکم دیتی ہے کہ وارثوں کو ان کے ورثہ سے محروم نہ کیا جائے۔پس کوئی شخص اپنے مال سے وارثوں کو محروم نہیں کر سکتا ہاں مرنے والے کو یہ حق دیا ہے کہ اپنے مال میں سے ایک ثلث وصیت کر دے اس سے زیادہ مال وصیت کرنے کا کسی کو حق نہیں کیونکہ اس سے وارثوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔مگر ساتھ ہی یہ حکم ہے کہ وصیت وارث کے حق میں نہیں کی جا سکتی وارثوںکو وہی حصہ ملے گا جو ان کے لئے مقرر ہو چکا ہے۔غیر وارث کو حصہ دیا جا سکتا ے۔عورت کا حصہ مرد سے اکثر حالتوں میں نصف رکھا ہے جن میں برابر رکھا وہاں خاص