انوارالعلوم (جلد 8) — Page 230
۲۳۰ یہ صورت نقم کی جب تک کہ کسی قانون کے ماتحت نہیں آتی کئی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے کبھی تو جسے تکلیف پہنچی ہوتی ہے وہ اس شخص کو سزا دینے پر جس سے اسے تکلیف پہنچی ہے قادر ہوتا ہے یا سمجھتا ہے کہ میں قادر ہوں۔اس وقت تو وہ اسے کسی قسم کی تکلیف پہنچاتا ہے یا پہنچانی چاہتا ہے جس سے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ تکلیف دینے والے کے دل کو بھی اسی طرح صدمہ پہنچے جس طرح کہ مجھے پہنچا ہے۔اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جس نے تکلیف دی تھی وہ زیادہ طاقتور ہوتا ہے یا اس کے عزیز رشتہ دار زیادہ طاقتور ہوتے ہیں یا مصیبت زدہ شخص سمجھتا ہے کہ حقیقی تکلیف پہنچانے کا اثر لوگوں پر اچھا نہیں پڑے گا وہ اسے برا سمجھیں گے یا اور کوئی وجہ ایسی پیدا ہو جاتی ہے کہ یہ اس کو حقیقی ضرر نہیں پہنچا سکتا یا نہیں پہنچانا چاہتا تو یہ اس وقت اپنی زبان سے اس کے خلاف بدکلامی یا عیب چینی کا حربہ استعمال کرتا ہے۔لیکن بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جس شخص سے اس کی مخالفت ہےوہ ایسا طاقتور ہے کہ زبان سے بھی اس کے خلاف کچھ نہیں کہنا چاہتا تو یہ اس سے کلام اور ملاقات ترک کردیتا ہے اور بعض دفعہ اس قدر سزا کی جرأت بھی نہیں رکھتاتو دل میں اس کی نسبت کینہ رکھتا اور ا سکی تکلیف پر خوش ہوتا اور اس کی کامیابیوں پر ناراض ہوتا ہے۔پس نقم جو طبعی جذبہ ہے اس سے کئی اقسام کے افعال کراتا ہے ان افعال پر عقل کو قابو دے دینا اور آزادی سے اپنا کام کرنے کی اجازت نہ دینی اس کا نام اخلاق ہے اور اس کو عقل کی قید سے آزاد کر دینے اور بے محل استعمال کرنے کا نام بد اخلاقی ہے اس تقاضائے فطرتی کو اخلاق میں تبدیل کرنے کے لئے اسلام مندرجہ ذیل قیود بیان فرماتا ہے۔اول قید یہ لگاتا ہے کہ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ (البقرة:195) جو شخص تم پر ظلم کرتا ہے تم اس کے بدلے میں اتنی ہی سزا اس کو دے سکتے ہو۔یہ حکم عام ہے اور ایسے لوگوں کے لئے ہے جو علم اور عقل کے ایسے اعلیٰ درجہ کے مقام پر نہیں پہنچے کہ احکام کی باریکیوں کو سمجھ سکیں۔جو لوگ ان سے زیادہ سمجھدار ہیں ان کی نسبت مندرجہ ذیل قیود مقرر فرماتا ہے فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (الشورى: 41) جو لوگ دوسرے کا گناہ معاف کر دیں اور درآنحالیکہ اس سے اصلاح مدنظر ہو ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اجر لے گا اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔یعنی جو لوگ اس وقت معاف کریں جبکہ معافی سے گناہ بڑھتا ہو یا اس وقت سزا دیں جبکہ سزا سے گناہ بڑھتا ہو وہ دونوں ظالم ہوں گے اور خدا تعالیٰ