انوارالعلوم (جلد 8) — Page 229
۲۲۹ غفلت سے اگر کوئی شخص ٹھوکر کھاتا ہے لیکن جونہی کہ اس کا نفس اس امر کو محسوس کرتا ہے اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں فلاں کام کرنے لگا ہوں تو جھٹ اس سے رک جاتا ہے اور اپنے نفس کو سلامتی کے کنارے کی طرف کھینچ لاتا ہے تو وہ بد اخلاق نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اس کا یہ فعل مستحسن ہو گااور وہ شخص اس سپاہی کی طرح ہوگا جو اپنے ملک کے لئے لڑ رہا ہے مگر ابھی فتح کا منہ اس نے نہیں دیکھا۔اخلاق کے متعلق عملی طور پر اسلام کی تعلیم بتانے کے بعد میں چند اخلاق بطور مثال بیان کرتا ہوں کیونکہ یہ مضمون اس قد ر وسیع ہے کہ اگر اسے بالاستیعاب بیان کیا جائے تو بہت ہی لمبا وقت چاہتا ہے اور اپنے اس بیان میں دوسری ترتیبوں کو نظر انداز کر کے میں صرف اس امر کو مدنظر رکھوں گا جو اخلاق کی تعریف میں میں نے بیان کیا تھا یعنی اخلاق طبعی تقاضوں کے برمحل اور مناسب موقع پر استعمال کا نام ہے اور گو اس وجہ سے مجھے دوسری ترتیبوں کو نظر انداز کرنا پڑے گا مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ تقسیم زیادہ مؤثر اور مفید ہو گی۔سب سے پہلے میں انسان کے طبعی تقاضوں سے رأفت اور نقم کو لیتا ہوں۔انسان کے اندر اور جانوروں کے اندر بھی یہ مادہ پایا جاتا ہے کہ وہ عام طور پر دوسرے کو تکلیف پہنچانے سے احتراز کرتے ہیں اور دوسروں کی تکلیف ان کے قلب پر ایک عجیب اثر پیدا کر دیتی ہے جس کی وجہ سے وہ اس کی تکلیف کو خود محسوس کرنے لگ جاتے ہیں۔ایک مریض بازار میں پڑا نظر آتا ہے تو قریباً تمام افراد کے دل میں اس کی نسبت ایک کشش اور درد محسوس ہونے لگتا ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو کوئی سخت شغل اپنی طرف مشغول کئے ہوئے ہو یا جن کو اس شخص سے کوئی تکلیف پہنچی ہوئی ہو۔مؤخر الذکر حالت میں دیکھا گیا ہے کہ بعض دفعہ ایسا شخص اس مصیبت زدہ کی حالت پر خوش ہوتا ہے اور یہ حالت نقم کی کہلاتی ہے۔یہ حالت بھی ایک الگ جذبہ ہے اور ایسے وقت میں ظاہر ہوتی ہے جب کسی کو کسی سے کوئی تکلیف پہنچے اور اس کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ اس وقت انسان کا دل چاہتا ہے کہ میں اس تکلیف پہنچانے والے کو ایذاء دوں۔اس جذبہ کے غالب آ جانے کے وجہ سے رأفت کا جذبہ دب جاتا ہے اور بجائے اس کے کہ یہ شخص یہ خیال کرے کہ میرے ایذاء دینے سے اسے تکلیف ہو گی اور اس کو سوچ کر اس کے دل کو تکلیف ہو اور دوسرے کی نسبت رأفت محسوس ہو یہ اس خیال میں کہ دوسرے کو تکلیف ہو بعض دفعہ لذت محسوس کرنے لگتا ہے۔