انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 218

۲۱۸ رہیں گے جاری رہے گا۔ان شاء اللہ و ھو البر الرحیم مثال کے طور پر میں دو واقعات اپنی ذات کے ہی پیش کر دیتا ہوں ایک تو یہ کہ چار سال کا عرصہ ہوا کہ مجھے ایک احمدی ڈاکٹر کی نسبت اطلاع ملی کہ وہ عراق میں مارا گیا ہے اس ڈاکٹر کے والدین نہایت بوڑھے تھے اور چند دن پہلے ہی میرے پاس ملاقات کے لئے آئے تھے۔گو اس کے چند ساتھیوں نے خط بھی لکھ دئیے تھے کہ فلاں جگہ عربوں نے حملہ کیا اور وہ مارا گیا مگر میرے دل میں اس کا اس قدر اثر ہوا کہ بار بار میرے دل سے یہ خواہش اٹھے کہ کاش وہ نہ مرا ہو اور بار بار دل سے دعا نکلے گو اس قدر اثر ہوا کہ بار بار دل سے دعا نکلے گو میں دل کو سمجھاؤں کہ کیا کبھی مُردے بھی زندہ ہوتے ہیں اب وہ کہاں سے زندہ ہو سکتا ہے۔تمام دن میری یہی کیفیت رہی اور پھر رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ وہ ڈاکٹر زندہ ہے۔اس خواب پر مجھے سخت تعجب ہوا لیکن خواب میں ایسی کیفیت تھی کہ میں جانتا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے ہے گو میں یہ سمجھتا تھا کہ جب وہ مر چکا ہے تو اس کی تعبیر کچھ اور ہو گی اور وہ خواب اسی ڈاکٹر کے ایک رشتہ دار کو جو قادیان میں رہتا ہے میرے چھوٹے بہائی نے جا کر سنا دی اور اس نے گھر خط لکھا کہ اس طرح ان کو خواب آئی ہے۔اس کے چند دنوں کے بعد ڈاکٹر موصوف کے ایک رشتہ دار کا خط آیا کہ اس کی تار آ گئی ہے کہ گھبراؤ نہیں میں زندہ ہوں۔آکر معلوم ہوا کہ اس کو عرب لوگ قید کر کے لے گئے تھے چونکہ اس پارٹی کے قریباً تمام آدمیوں کو عربوں نے قتل کر دیا تھا اس لئے اس کو بھی مُردہ سمجھ لیا گیا۔آخر اللہ تعالیٰ نے ادھر مجھ کو رؤیا میں اس کی زندگی کی خبر دی اور ادھر یہ سامان کر دئیے کہ انگریزی فوج کا ایک دستہ اس گاؤں کے قریب جا پہنچا جس میں اس کو عربوں نے قید کر رکھا تھا او رگاؤں والے ڈر کر بھاگے اور ڈاکٹر کو بچ نکلنے کا موقع مل گیا اور خدا تعالیٰ نے اس طرح اس کو دوبارہ زندگی عطا کر دی۔دوسری مثال بالکل تازہ ہے پچھلے بارہ تیرہ سالوں سے طاعون جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے ماتحت اور آپ کی صداقت کے ثبوت کے طور پر ملک میں پھیلائی گئی تھی کم ہونے لگی اور دو تین سال پہلے تو اس میں اس قدر کمی آ گئی کہ گورنمنٹ کی طرف سے امید ظاہر کی گئی کہ اب طاعون شاید اگلے سال تک ملک سے باکل ہی نکل جائے مگر مجھے اس وقت رؤیا میں ایک طاعون کا مریض اور کچھ بھینسیں گلیوں میں دوڑتی ہوئی دکھائی گئیں اور بھینسوں کی تعبیر خواب میں وباء ہوتی ہے میں نے اسی وقت اس خواب کا اعلان کر دیا اور بتایا کہ معلوم ہوتا ہے پھر طاعون کی وباء سخت صورت میں ملک میں پڑنے والی ہے اور میرا یہ اعلان اخبار الفضل کے 24