انوارالعلوم (جلد 8) — Page 219
۲۱۹ نومبر کے پرچہ میں شائع کر دیا گیا۔اس خواب کو شائع کئے ابھی ایک ماہ ہی گذرا تھا کہ ملک میں طاعون کا حملہ شروع ہو گیا اور فروری سے تو خوب زور ہو گیا اور مارچ اپریل اور مئی میں ایسی شدت ہوئی کہ ایک ایک ہفتہ میں آٹھ ہزار سے تیرہ ہزار تک موتیں ہوئیں اور اس وقت تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ آدمی ہلاک ہو چکا ہے۔حالانکہ پچھلے پانچ سالوں کی مجموعی ہلاکت بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔یہ مثالیں میں نے بطور نمونہ دی ہیں ورنہ سینکڑوں دفعہ مجھ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے غیب کو ظاہر فرمایا ہے اور اسی طرح ہزاروں احمدی ہیں جن سے خد ا تعالیٰ یہ معاملہ کرتا ہے اور وہ معاملہ اس کی مختلف صفات کے ماتحت ہوتا ہے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ معاملات کسبی نہیں ہوتے۔خدا تعالیٰ حکیم ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں اس لئے انسان کے منشاء پر ان امور کو نہیں چھوڑا کہ جب چاہے انسان خدا تعالیٰ کے علم یا اس کی قدرت یا اس کی شفاء یا اس کے احیاء یا خلق یا مِلک یا رزق کے خزانہ کو کھول لے یہ غیر معمولی سلوک اس کی خاص حکمت کے ماتحت ظاہر ہوتے ہیں اور محض اس کے فضل سے ہوتے ہیں۔ہاں وہ اپنے فضل سے اپنے بندوں کا علم اور یقین اور عرفان بڑھانے کے لئے ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا رہتا ہے جو ان کو دوسرے لوگوں اور دوسری قوموں سے ممتاز کر کے دکھاتا ہے اور ہم لوگ یقین کرتے ہیں کہ اگر کوئی جماعت ہدایت کی طرف سچے طور پر مائل ہو تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی تسلی کے لئے اب بھی اپنی حکمت کا کاملہ کے ماتھت اپنی کسی صفت کا اظہار کر دے گا کیونکہ وہ اپنے بندوں کی ہدایت کو محبوب رکھتا ہے اور ان کی گمراہی اور اس سے دوری کو ناپسند رکھتا ہے۔اس امر کے ثابت کر دینے کے بعد کہ اسلام خدا تعالیٰ کے متعلق کامل تعلیم دیتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا تعالیٰ سے اسی دنیا میں ملا دیتا ہے اور یقین اور وثوق کے ایسے دروازے انسان کے لئے کھول دیتا ہے کہ شک اور شبہ کی اس کو گنجائش نہیں رہتی اور وہ نہایت خوشی سے موت کا منتظر رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں نے حق پا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا ایک ایک کر کے اسی دنیا میں مشاہدہ کر لیا ہے اور اب میرے لئے موت کے بعد کچھ نہیں مگر خیر اور بے انتہاء ترقیات۔اب میں دوسرے مقاصد کی نسبت اسلام کی تعلیم لکھتا ہوں۔