انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 160

۱۶۰ پُرحکمت ہیں یعنی ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا، رکوع کرنا، ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونا، سجدہ کرنا اور دو زانو بیٹھنا۔یہ تمام حرکات وہ ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک میں کمال تذلل کے اظہار کے لئے اختیار کی جاتی ہیں۔بعض ممالک میں لوگ انتہائی ادب کے اظہار کے لئے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں، بعض جگہ ہاتھ چھوڑ کر کھڑے ہوتے ہیں، مصر کے قدیم لوگ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر انتہائی ادب کا اظہار کیا کرتے تھے، ہندوستان میں سجدہ کا رواج تھا، یورپ میں گھٹنوں کے بل گرنے کا رواج ہے اسلام نے اپنی عبادت میں ان سب باتوں کو جمع کر لیا ہے۔ان سب خوبیوں کے ساتھ یہ خوبی مل کر کہ نماز کے وقت جس کے لئے عام حکم یہی ہے کہ سب مسلمان مل کر نماز ادا کریں تاکہ اخوت کا جذبہ ترقی کرے۔جس وقت بادشاہ اور ایک ادنیٰ مزدور پہلو بہ پہلو اکٹھے کھڑے ہوتے ہیں تو حقیقی طور پر دل محسوس کرتا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے بناوٹ نہیں۔ایک ہستی کے سامنے سب لوگ کھڑے ہوئے ہیں جس کے حضور میں ایک بادشاہ بھی اپنی بادشاہت کا خیال بھول جاتا ہے او رایک معمولی آدمی کے پہلو میں آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اسلام نے نماز کی تعلیم لالچ کے طور پر دی ہے کہ خدا تعالیٰ اس طرح ہمیں کچھ دے مگر یہ بالکل غلط ہے۔اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے اس خیال کو باطل کیا ہے اور بتایا ہے کہ اسلامی عبادات ایک دنیادار کی لالچی درخواستوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ ان کی دو بڑی غرضیں ہیں ایک تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکریہ اور ان کا اقرار جو ایک صداقت کا اقرار ہے اور بغیر صداقت کے اقرار کے انسان انسان کہلانے کا مستحق ہی نہیں ہو سکتا۔دوسرے روحانی ترقی کا حصول۔چنانچہ ان دونوں باتوں کا ذکر قرآن کریم میں یوں فرماتا ہے۔فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (البقرة:153) اے لوگو! میری عبادت کرو تاکہ میں تم کو اپنی ملاقات کا شرف بخشوں اور میری نعمتوں کا شکریہ ادا کرو اور ناشکری نہ کرو یعنی عبادات کا ایک فائدہ تو روحانی ترقی ہے اور دوسرے احسانات باری تعالیٰ کا شکریہ۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےإِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنْكبوت:46) اسلامی نماز انسان کو بدیوں اور ناپسند باتوں سے بچاتی ہے۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ سے بعض صحابہ نے پوچھا آپ اس قدر عبادت کیوں کرتے ہیں؟ تو آپ نےفرمایا افلا اکون عبدا شکورًا کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔قرآن میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد:29) نماز کے ذریعہ سے دل مطمئن ہوتے ہیں اور وہ عرفان ملتا