انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 159

۱۵۹ دھوتا ہے۔اس میں علاوہ طہارت اور صفائی کے فائدہ کے جس پر اسلام نے خاص زور دیا ہے روحانی فائدہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اس طرح ان تمام راستوں کی حفاظت ہو جاتی ہے جن کے ذریعہ سے خیالات پراگندہ ہوتے ہیں یعنی حواس خمسہ کان، ناک، آنکھ، منہ اور قوت لامسہ کے قائم مقام ہاتھ اور پاؤں کی۔جو لوگ روحنایت کا درک رکھتے ہیں وہ اس نکتہ کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ بوجہ قلت گنجائش میں تفصیل سے اس کو بیان نہیں کر سکتا۔اسلام نے ان دونوں امور کی طرف خود اس کام کے نام سے اشارہ کیا ہے یعنی وضو کے لفظ سے جس کے معنی صفائی اور خوبصورتی کے ہیں۔پس اس کا نام ہ دلالت کرتا ہے کہ اس فعل کےذریعہ سے ظاہری صفائی بھی ہو جاتی ہے جو باطنی صفائی کے لئے نہایت ضروری ہے اور اس سے نماز بھی خوبصورت ہو جاتی ہے یعنی اس کے ذریعہ سے خیالات پراگندہ ہونے سے بچ جاتے ہیں اور نماز میں وہ حقیقت پیدا ہو جاتی ہے جس کے لئے وہ ادا کی جاتی ہے۔وضو کرنے کے بعد انسان قبلۂ رخ ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے جس سے اسے ابراہیمؑ کی قربانیوں اور ان کے نیک نتائج کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔پھر وہ بعض مقررہ عبارات پڑھتا ہے جو تین روحانی امور پر مشتمل ہیں۔اول خدا تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید پر کہ اس سے خدا تعالیٰ کا صفاتی وجود اس کے سامنے آ جاتا ہے اور اس کا دل جوش محبت اور غلبۂ اخلاص سے حرکت میں آ جاتا ہے اور ایک خاص کشش اس کو اللہ تعالیٰٰ کی طرف پید اہو جاتی ہے۔دوسرے اس اقرار پر کہ بندہ اپنی تمام ترقیات میں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کی مدد کا محتاج ہے اس سے اس کے دل میں اپنی کمزوریوں پر اطلاع ملتی ہے اور وہ اپنی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے تیسرے دعا پر کہ جو گویا اصل جڑ ہے نماز کی۔اس کے ذریعہ سے انسان اللہ تعالیٰٰ کے فضل کو جذب کرتا ہے اور اس کی محبت کی روح کو اپنے محبت کی روح پر ڈال کر اس سے وہ فیوض حاصل کرتا ہے جو روحانی طور پر بالکل اس مادۂ تناسل سے مشابہ ہیں جو ایک نر اور مادہ کے اجتماع سے پیدا ہوتا ہے اور ایک نئی مخلوق اس سے ظاہر ہوتی ہے غرض اسلامی نماز اپنے اندر ایسے کمالات رکھتی ہے کہ انسانی عقل اس کی خوبیوں کو دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے مگر شرط یہی ہے کہ ان شروط سے ادا کی جائے جو اسلام نے اس کے لئے مقرر کی ہیں ورنہ وہ کچھ اثر نہ کرے گی اور خواہ مخواہ نماز گزار نماز پر حرف گیری کرے گا۔نماز کے ادا کرنے میں شریعت اسلام نے جو ظاہری علامات مقرر کی ہیں وہ بھی نہایت