انوارالعلوم (جلد 8) — Page 119
۱۱۹ اے بھائیو! ذرا غور تو کرو کہ اس وقت کونسا مذہب ہے جس کے متبع اس امر کے دعویدار ہوں کہ انہوں نے وہ کچھ پا لیا ہو جو پہلے نبیوں کے ذریعے سے دنیا کو ملا تھا؟ کیا یہ امر درست نہیں کہ لوگ اس امر پر قانع ہیں کہ انعامات پہلوں پر ہی ختم ہو چکے یا مذہب کو ہی جواب دے چکے ہیں یا یہ سمجھتے تو ہیں کہ ان کو سب کچھ مل گیا؟ مگر ان کی مثال اس معمول کی طرح ہے جو مسمریزم کے اثر کے نیچے بیسیوں غیر معقول امور کو تسلیم کرتا ہے لیکن دوسرے دیکھنے والوں کو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔اگر یہ سچ ہے اور ضرور ہے تو آج بھی دنیا کو اسی طرح ایک نبی کی ضرورت ہے جس طرح کہ پہلے زمانوں میں تھی اور اسی وجہ سے احمدی جماعت اس امر کی معتقد ہے کہ نبوت کا دروازہ ہمیشہ سے کھلا ہے اور کھلا رہے گا اور یہ کہ موجودہ زمانہ نہایت زور سے ایک نبی کی ضرورت کی شہادت دے رہا ہے۔مگر ہم لوگ اپنے عقیدہ کی بناء صرف زمانہ کی شہادت پر ہی نہیں رکھتے بلکہ پہلے نبیوں کی شہادت پر بھی ہمارے عقیدے کی بنیاد ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک مذہب کے پیشواؤں نے ایک آنے والے نبی کی بشارت دی ہے جیسے ہندوؤں میں نہہ کلنک اوتار کی پیشگوئی ہے جس کے وہ اب تک منتظر ہیں، مسیحیوں میں مسیح کی آمد ثانی کی، مسلمانوں میں مہدی اور مسیح موعود کی، زردشتیوں میں موسیو در بہمی کے آنے کی پیشگوئیاں ہیں۔اگر آئندہ سلسلہ نبوت دنیا سے بند ہو چکا ہوتا تو یہ سب قومیں ایک آنے والے کے متعلق کیوں متفق ہوتیں؟ پھر ایک اور عجیب بات ہے جو ہم ان پیشگوئیوں میں دیکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ علامات جو ان موعود نبیوں کے متعلق بیان کی گئی ہیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔سب کی سب پیشگوئیوں میں اس زمانہ میں بدیوں کی کثرت، بیماریوں کی زیادتی، ستاروں کا ٹوٹنا، سورج اور چاند گرہن کا لگنا اور لڑائیوں کا ہونا وغیرہ علامات بتائی گئی ہیں اور کام بھی ان موعودوں کا ایک ہی بتایا گیا ہے یعنی اس وقت ان کے ذریعہ سے سب دنیا پر صداقت پھیل جائے گی اور مذہب حقہ کو غیر معمولی طور پر دوسرے دینوں پر غلبہ ملے گا جو اس سے پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا۔اب ایک طرف تو ان پیشگوئیوں کا اپنے وقت پر پورا ہو جانا بتاتا ہے کہ یہ پیشگوئیاں جھوٹی نہیں ہیں۔دوسری طرف ان موعودوں کا مقررہ کام اس امر کو ناممکن قرار دیتا ہے کہ ایک ہی وقت میں اس قدر موعود اپنے اپنے مذہب کو سارے ادیان پر غالب کریں۔پس لازماً یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ پیشگوئیاں ایک ہی شخص کے متعلق ہیں جو اس غرض کے لئے آئے گا کہ اپنی قوت قدسیہ