انوارالعلوم (جلد 8) — Page 120
۱۲۰ سے سب ادیان کو ایک جگہ جمع کر دے اور سب قومیں اس کے ذریعہ سے سچا راستہ دیکھیں۔لیکن جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب پیشگوئیاں ایک ہی موعود کی خبر دے رہی ہیں وہاں ان پیشگوئیوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس موعود کو ایسی خصوصیات بھی حاصل ہوں گی جن کے سبب سے تمام اقوام اس کو اپنا ہی سمجھیں گی۔اس کو ہندوؤں سے بھی ایسا تعلق ہو گا کہ وہ اسے اپنا نہہ کلنک اوتار قرار دے سکیں گے اور فارسیوں سے بھی اسے ایسا تعلق ہو ا کہ وہ اسے اپنا موسیو در بہمی سمجھ سکیں گے اور مسلمانوں سے بھی اسے ایسے تعلق ہو گا کہ وہ اسے اپنا مہدی کہہ سکیں گے اور مسیحیوں سے بھی اسے ایسا تعلق ہو گا کہ وہ اسے اپنا مسیح مان سکیں گے اور یہ تعلق اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ مختلف نسبتوں کے ذریعہ سے مختلف قوموں کی طرف منسوب ہو۔مثلاً کسی قوم کے ساتھ اسے مذہبی تعلق ہو، کسی قوم کے ساتھ نسلی تعلق ہو، کسی قوم کے ساتھ ملکی تعلق ہو اور کسی قوم کے ساتھ سیاسی اور تمدنی تعلق ہو حتیٰ کہ ہر قوم اس کو اپنا قرار دے سکے۔ہم احمدی جماعت کے لوگوں کا یہ مذہب اور یہ عقیدہ ہے کہ یہ سب باتیں حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ میں جمع ہو جاتی ہیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے مفاسد کی اصلاح کے لئے مبعوث فرمایا ہے آپ اپنے دعویٰ کے مطابق مسیحیوں کے لئے مسیح تھے اور مسلمانوں کے لئے مہدی اور ہندوؤں کے لئے کرشن یا نہہ کلنک اوتار اور زردشتیوں کے لئے موسیو دربہمی۔غرضیکہ آپ ہر ایک قوم کے موعود نبی تھے اور سب دنیا کو ایک مذہب پر جمع کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے آپ کے وجود میں اللہ تعالیٰٰ نے سب قوموں کو امیدوں اور آرزوؤں کو جمع کر دیا۔آپ وہ صلح کا گنبد تھے جس میں ہر ایک قوم آ کر اپنے پیدا کرنے والے کے آگے جھکی۔اور وہ کھڑکی تھی جس میں سے سب قوموں نے خدا کو دیکھا اور وہ نقطہ مرکزی تھے جس پر دائرہ کے سب خط آ کر جمع ہوئے۔پس آپ کے ذریعہ سے دنیا کی صلح اور آشتی مقدر ہے آپ ایرانی النسل ہونے کے سبب سے زردشتیوں کے موعود تھے، ہندوستانی ہونے کے سبب سے ہندوؤں کے موعود تھے، مسلمان ہونے کے سبب سے مسلمانوں کے موعود تھے اور مسیح موعود تھے اور مسیح کا نام پانے کے سبب سے اور ان تمدنی نقائص کا علاج لانے کے سبب سے جو مسیحی ممالک میں پائے جاتے ہیں اور جن کی وجہ سے مسیحی ممالک کی عام آبادی کی پیٹھ جھکی جاتی ہے اور مسیحیوں کی حکومت میں پیدا ہونے کے سبب سے اور مسیح کی عزت کو ان کے حملوں سے