انوارالعلوم (جلد 8) — Page 49
۴۹ قول الحق بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ ونصلی على رسوله الكريم حضرت مسیح موعود پر غیراحمدی علماء کے اعتراضات کے جواب (فرموده ۳-اپریل ۱۹۲۴ء بمقام مسجد اقصیٰ قادیان) انبیاء عليهم السلام مختلف زبانوں کی حالتوں کے مطابق مختلف قسم کے نشانات اپنے ساتھ لاتے ہیں اور مختلف زمانوں کی ضرورتوں کے مطابق مختلف قسم کی تعلیمیں ان پر نازل ہوتی ہیں اور مختلف لوگوں کی زبانوں اور محاورات کے مطابق مختلف قسم کے الفاظ اور اشاروں میں خدا ان سے کلام کرتا ہے۔ہر نبی سے استہزاء کیا گیا مگر باوجود تمام ان اختلافات کے جو دنیا میں پائے جاتے ہیں اور باوجود ان تمام حالات کے تغیر کے جو و قتاًفو قتاًہوتے رہتے ہیں پھر بھی ایک بات میں تمام انبیاء متفق ہیں اور کسی نبی کو اس میں فرق اور تفاوت حاصل نہیں ہے۔سب کے سب نبی اور تمام کے تمام ماموراس ایک بات میں یکساں ہیں اور حضرت آدم ؑسے لے کر رسول کریم ﷺ اور رسول کریم ﷺ سے لے کر آج تک جتنے مامور اور مرسل گذرے ہیں ایک بات میں سارے کے سارے متفق ہیں وہ سارے کے سارے ایک دروازه سے گذرے ہیں ان سب پر ایک حالت طاری ہوئی ہے وہ بات اور حالت کیا تھی قرآن کریم کے الفاظ میں ہی ہے۔یحسرة على العباد ما يأتيهم من رسول الا كانوا بہ يستهزءون اے افسوں انسانوں پر اے حسرت اے بندوں پر کیوں؟ اسلئے کہ آج تک ایک بھی رسول ہماری طرف سے ایسا نہیں بھیجا گیا جس سے انسانوں نے ہنسی اور تمسخرہ کیا ہو۔جس قدر مأمور دنیا میں آئے جس قدر مرسل بھیجے گئے جتنے انبیاء نازل ہوئے ان ساروں سے یہ معاملہ ہوا